امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 20
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : کر کے ان کے درمیان صلح کراتا۔گوتم بدھ نے اس صلح کا ارادہ کیا تھا اور وہ اس بات کا قائل نہ تھا کہ جو کچھ ہے دید ہے آگے کچھ نہیں اور نہ وہ قوم اور ملک اور خاندان کی خصوصیت کا اقراری تھا یعنی یہ مذہب اس کا نہیں تھا کہ گویا وید پر ہی سب کچھ حصر ہے اور یہی زبان اور یہی ملک اور یہی برہمن پرمیشر کے الہام کے لئے ہمیشہ کے لئے اس کی عدالت میں رجسٹر ڈ ہو چکے ہیں۔لہذا اس نے اس اختلاف سے بڑا دُکھ اُٹھایا اور اس کا نام ایک دہریہ اور ناستک مت والا رکھا گیا۔جیسا کہ آج کل یورپ اور امریکہ کے تمام محقق جو حضرت عیسی کی خدائی کو منظور نہیں کرتے اور ان کے دل اس بات کو نہیں مانتے کہ خدا کو بھی سُولی دے سکتے ہیں۔وہ تمام لوگ حضرات پادری صاحبوں کے خیال میں دہر یہ ہیں۔مہاتما بدھ سو اسی قسم کا بدھ بھی دہر یہ ٹھہرایا گیا اور جیسا کہ شریر مخالفوں کا دستور ہے عام لوگوں کو نفرت دلانے کے لئے بہت سی تہمتیں اس پر لگائی گئیں۔آخر انجام یہ ہوا کہ بدھ آریہ ورت سے جو اس کی زاد و بوم اور وطن تھا نکالا گیا۔20