امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 11
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : اس ملک کے اوتار ماسوا اس کے صلح پسندوں کے لئے یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم و یدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔مثلاً اگر چہ نو خیز مذہب آریہ سماج یہ اصول رکھتا ہے کہ ویدوں۔وں کے بعد الہام الہی پر مُہر لگ گئی ہے مگر جو ہندو مذہب میں وقتًا فوقنا اوتار پیدا ہوتے رہے ہیں جن کے تابع کروڑ ہا لوگ اسی ملک میں پائے جاتے ہیں اُنہوں نے اس مہر کو اپنے دعویٰ الہام سے تو ڑ دیا ہے جیسا کہ ایک بزرگ اوتار جو اس ملک اور نیز بنگالہ میں بڑی بزرگی اور عظمت کے ساتھ مانے جاتے ہیں جن کا نام سری کرشن ہے۔وہ اپنے ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے پیرو نہ صرف ان کو ملہم ہے پر میشر کر کے مانتے ہیں مگر اس میں شک نہیں کہ سری کرشن اپنے وقت کا نبی اور اوتار تھا اور خدا اُس سے ہمکلام ہوتا تھا۔شری گورونانک صاحب ایسا ہی اس آخری زمانہ میں ہندو صاحبوں کی قوم میں سے 11