امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ — Page 5
امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ ہوگا اور اسی رمضان میں سورج گرہن ہونے کے درمیانے دن یعنی ۲۸ / رمضان کو سورج گرہن ہوگا۔مہینوں میں سے ماہ رمضان کی تعیین اور چاند کیلئے پہلی رات کی تعیین اور سورج کیلئے درمیانے دن کی تعیین غیر معمولی تعیین ہے جو انسانی طاقت اور علم اور فہم سے بالا ہے۔چنانچہ جب وقت آیا تو ایک مدعی نے واقعی ظہور کیا اور دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں اور اس کے دعوی کے ثبوت کے طور پر دونوں نشان یعنی چاند اور سورج گرہن جس طرح کہ پیشگوئی میں بتائے گئے تھے ظہور میں آئے۔پس یہ ایک غیر معمولی اور معجزانہ پیشگوئی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مہدی کیلئے کی تھی اور جیسا کہ واقعات نے ثابت کیا کہ یہ پیشگوئی اپنے وقوعہ سے قریباً تیرہ صد سال قبل کی گئی تھی۔یہ پیشگوئی انسانی عقل اور قیافہ اور علم سے بالا ہے۔پھر یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ وہ عظیم بچہ جو ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوا تھا اس نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر (۱۸۹ء میں دنیا میں یہ اعلان کیا کہ وہی موعود مہدی ہے اور اپنے دعوی کی صداقت کے ثبوت کیلئے ہزاروں عقلی اور نقلی دلائل اور آسمانی تائیدات اور اپنی پیشگوئیاں جس میں سے بہت سی اس کے زمانہ میں پوری ہو چکی تھیں اور بہت تھیں جن کے پورا ہونے کا وقت ابھی بعد میں آنے والا تھا دنیا کے سامنے پیش کیں۔مگر وقت کے علماء نے اس کے دعوئی کو جھٹلایا اور انکار کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی کہ مہدی کیلئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی معینہ تاریخوں میں چاند اور سورج کا گرہن