امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 23

امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ — Page 6

امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ بطور علامت کے بیان کیا تھا کیوں کہ اس پیشگوئی کے مطابق چاند اور سورج کو گرہن نہیں لگا اس سے ثابت ہوا کہ آپ اپنے دعویٰ میں سچے نہیں۔لیکن وہ قادر و توانا خدا جو اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے مخلص عباد کے ساتھ وفا اور پیار کا سلوک کرنے والا ہے اس نے عین اپنے وعدہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ۱۸۹۴ء کے ماہ رمضان میں معینہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن کی حالت میں کر دیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا اور ہر دو جہاں کا رب بڑی عظمت اور جلال اور قدرت کا مالک ہے۔نہ صرف ایک دفعہ بلکہ یہی نشان رمضان ہی کے مہینہ میں اور عین معینہ تاریخوں پر ۱۸۹۵ء میں دوسری دنیا کو دکھایا۔تا مشرق اور مغرب اور پرانی اور نئی دنیا کے بسنے والے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے روحانی فرزند حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی صداقت کے گواہ ٹھہر ہیں۔پس عظیم ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے اپنے خدا سے علم پا کر یہ مجزانہ پیشگوئی فرمائی اور عظیم ہے آپ کا وہ روحانی فرزند جس کے حق میں وہ پوری ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے زمانہ تک اگر چہ کئی پیدا ہوئے جنہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، مگر ان میں سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کی مہدویت کی صداقت پر چاند اور سورج گواہ بنے ہوں۔یہ ایک بات ہی اس بات کیلئے کافی ہے کہ آپ ٹھنڈے دل اور گہرے فکر سے اس مدعی کے دعویٰ پر غور کریں جس کا پیغام میں آج آپ تک پہنچا رہا