امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ — Page 15
امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ سختی سے تردید فرماتا ہے۔یہ بات اور عیسائی کلیسیا کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے انکار دو ایسے امور ہیں جو اسلام اور عیسائیت کے بنیادی اور اصولی اختلاف ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں ہر دم اسی فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجب تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنالیا گیا اور ایک مشتِ خاک کو رب العلمین سمجھا گیا، میں کبھی کا اس غم میں فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے، غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنے خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے، مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اسکا بیٹا اب ضرور مرے گا۔خدائے قادر فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اسکے بیٹے عیسی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کر دوں ، سواب اس نے چاہا ہے کہ ان دونوں کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو موت کا مزہ چکھا دے، سو اب دونوں مریں گے کوئی انکو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعداد یں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہوگا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب