امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 8
اور فطری نیکیوں سے بہت متاثر تھے۔حضرت اسمعیل کی زبان عبرانی تھی۔لیکن اس قبیلہ میں رہنے کی وجہ سے عربی بھی سیکھ لی۔اس طرح مکہ میں عربی زبان بولی جانے لگی۔مکتہ کو جوحقیقی برکت نصیب ہوئی وہ خانہ کعبہ کی وجہ سے تھی۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبْرَكًا وَهُدًى لِّلْعَلَمِينَ۔,, پہلا گھر جولوگوں کے فائدے کی غرض سے خُدا کی عبادت کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو وادی مکہ میں برکت دیا گیا ہے۔اور ہدایت کا باعث بننے والا ہے۔“ ( آل عمران ۹۷) میرے پیارے بچو! میں آپ کو اس وقت صرف مکہ کے بارے میں بتا رہی ہوں۔مکہ کو ایک اور فضیلت حاصل ہے۔اور وہ حضرت اسمعیل کی قربانی ہے۔جب حضرت اسمعیل تقریباً تیرہ سال کے ہوئے تو وہ مشہور واقعہ ہوا جب حضرت ابراہیم نے ان کو خُدا کے حکم سے قربان کرنا چاہا۔اور خُد اتعالیٰ نے یہ کہہ کر روک دیا کہ ( سورة صفت ) اسمعیل کی جگہ ایک مینڈھا قربان کر دے۔(حج کے موقع پر جو قربانی دی جاتی ہے وہ اسی یاد کو تازہ کرتی ہے۔ہر سال لاکھوں مسلمان عید الاضحیٰ کے موقع پر اسی یاد کو مناتے ہیں۔) ہاں تو بچو ! جس طرح خُدا نے کہا تھا کہ میں اس کو برکت دوں گا اور اس کی اولا دگنی نہیں جا سکے گی۔حضرت اسمعیل جب جوان ہوئے تو ان کی شادی قبیلہ جرہم کے سردار مضاض بن عمرو کی بیٹی سے ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بارہ بیٹے دیئے۔ان میں بڑے بیٹے کا نام ثابت اور چھوٹے کا قیدار تھا۔بائیبل میں ان لڑکوں کے نام اس طرح ہیں۔ا۔بنیت جو نابت کے نام سے مشہور ہوئے۔۲۔قیدار۔۳۔اوئیل۔۴۔مسام۔