امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 16
۱۶ تھے۔اور ان کو اپنا سر دار ماننے میں فخر محسوس کرتے تھے۔عبدالمطلب کے دس بیٹے تھے۔سب سے چھوٹے بیٹے عبداللہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد ماجد تھے۔ادھر اللہ تعالیٰ عرب کے لوگوں کو سمجھا رہا تھا کہ اسی خاندان میں میرا پیارا آنے والا ہے۔اس لئے اس کی رحمتوں کی بارش اور بڑھ گئی۔اور وہ اس طرح کہ چاہ زمزم جو ایک لمبے عرصہ سے گم ہو چکا تھا اب خُدا نے اس کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔حضرت عبد المطلب کو خواب میں وہ جگہ بتائی گئی جہاں چشمہ تھا۔جب وہاں کھدائی کی گئی تو چشمہ مل گیا اور ساتھ ہی وہ دولت جو اس میں دفن تھی وہ بھی مل گئی۔اس طرح خُد اتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کی عزت کو قریش میں اور بھی بڑھادیا۔پھر ایک اور واقعہ ہوا جو اصحاب فیل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔یمن کے گورنر ابرہہ نے خانہ کعبہ پر حملہ کر کے اسے گرانے کا ارادہ کیا۔وہ مکہ کے قریب پہنچ گیا۔اس کے کچھ سپاہیوں نے حضرت عبد المطلب کے اُونٹ چرا لئے۔ادھر ابرہہ نے رعب ڈالنے کے لئے قریش کے سردار کو بلا بھیجا۔جانے سے پہلے عبد المطلب نے تمام سرداروں سے مشورہ لیا کہ کیا کیا جائے۔سب جانتے تھے کہ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ آسان نہیں۔طے یہ پایا کہ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔عبد المطلب ابرہہ سے ملے۔وہ آپ کی ذہانت اور فہم و فراست سے بہت متاثر ہوا۔ابرہہ کا خیال تھا کہ یہ ضرور درخواست کریں گے کہ کعبہ کو نہ گرایا جائے۔لیکن اس کی توقع کے خلاف آپ نے کہا کہ ”میرے اُونٹ مجھے واپس کر دو۔تمہارے سپاہیوں نے میرے اُونٹ پکڑ لئے ہیں۔ابرہہ غصہ سے بولا کہ تم کیسے قریش کے سردار ہو۔خانہ کعبہ کی کوئی فکر نہیں اپنے اونٹوں کا قصہ لے بیٹھے ہو۔عبدالمطلب نے کہا کہ میں اونٹوں کا مالک ہوں مجھے اونٹوں کی فکر ہے۔اس گھر کا بھی ایک مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔