المبشرات

by Other Authors

Page 31 of 309

المبشرات — Page 31

سورج کی ختم نہ ہونے والی آگ سے فقط اس قدر گرمی پہنچتی ہے جتنی کہ دنیا کی چیزوں کو زندہ ا پنے کے لئے درکار ہے۔چاند کی طرف دیکھے اگر یہ ہم سے قریب تر ہوتا تو سمندروں کے پانی کا متے ہو جزر ہلاکت انگیز صورت اختیار کر لیتا۔سمندروں میں ہر رونہ دو مرتبہ جوار بھائی کی صورت میں طوفان آیا کرتے جن سے سبھی براعظم دن میں اتنی ہی مرتبہ پانی میں غرق ہو جاتے اور پانی کی لہریں ہمالہ جیسے سر بفلک پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی بہائے جائیں۔کیا یہ سب کچھ حسن اتفاق ہے کہ یہ تمام چیزیں ٹھیک اس حالت میں ہیں کہ ہماری خیمن ثابت ہونے کی بجائے ہماری خادم ثابت ہو رہی ہیں محسن اتفاق پر بھروسہ کر کے صرف دس ایک سی چیزوں کو ترتیب وار جیب سے نکالنے کا امکان ایک نبیل مرتبہ کوششوں میں صرف ایک تھا۔بتا ئیے پھر زندگی کو ممکن بنانے کا کام جو ان گنت عوام پر منحصر ہے کیونکر کسی دانا و بینا اور علیم وبصیر ذات کے بغیر ممکن ہے۔دوسری دلیل۔مسٹر مورنین نے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ حیوانات کی عقل اس جود و کرم والے خالق کے وجود پر گواہی دیتی ہے جس نے ایک بے یار و مددگار مخلوق کو وجدان کے ذریعہ سے گردویش کے حالات سمجھنے اور اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھالنے کے قابل بنایا۔** بسامن مچھلی کو دیکھئے جسامت میں چھوٹی۔لیکن عقل میں تیز برسوں دور دراز سمندروں میں رہنے کے بعد جب اس ندی کی طرف لوشتی ہے جس کے کسی پایاب حصے میں اس نے پہلی بار اپنی آنکھ کھولی تو وہ اپنے وطن کی راہ کبھی نہیں بھولتی۔ایل مچھلی کی داستان حیات سامن سے بھی حیرت انگیز ہے بلوغت کو پہنچنے