المبشرات

by Other Authors

Page 4 of 309

المبشرات — Page 4

کی ضیا پاشیوں نے دنیا کے مشرق و مغرب کو بقعہ نور بنا دیا۔بائیل ہوگذشتہ جلیل القدر پیغمبروں کے کشورت والعامات سے بھری پڑی ہے فقط ماضی کے دھندلے نقوش ہیں اب اگر نہیں کرتی بلکہ حضرف مٹی کے بعد ایک نئے بیدی سلسلہ نبوت کی طرف بھی راہ نمائی کرتی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ : 1- حضرت مسیح کے زمانہ رسالت کے بعد ایک جدید دور آنے والا ہے جبکہ دنیا ایک نئی کروٹ لے گی اور آسمانی بادشاہت اسرائیلی قوم سے چھین کر بنوں تحصیل میں منتقل ہو جائیگی۔ہ بنوائیل میں سے محمد کے مقدس نام سے ایک روح حق بر پا ہوگا جو فلسطین ایک روج حق پا سے ڈور فاران کی چوٹیوں پر ایک جھنڈا بلند کرے گا اور لوگ اسکی طرف دیوانہ دار پہلے آئینگے۔اس خدا نما وجود کو ہجرت کرنا پڑے گی اور ہجرت کے ٹھیک ایک برس بعد قیدار یعنی مکہ والے اس کے سامنے پسپا ہوں گے اور اُن کے بہادر سردار موت کے گھاٹ اتارے جائیں گے۔یہ معرکہ نہیں ختم نہیں ہو جائے گا بلکہ ظلمت وغیرہ کے فرزندوں میں اور بھی کئی خوانی ہے جنگیں ہوں گی مگر خاک و خوں کے ان طوفانوں سے گذرنے کے بعد یہ فرستادہ اپنے نو ہزار دو دسیوں کے ساتھ وادی ناران میں فاتحانہ شان سے جلوہ گر ہو گا۔اہم یہ رواع حق حضرت موسی کی مانند صاحب شریعت ہوگا اور اس کی شریعیت۔۔۔۔ایک آتشین شریعت ہوگی۔یعنی اُس کے نمودار ہوتے ہیں ریگن ہی کتب کی عظمتیں ماند پڑ جائیں گی۔یروشلم کے باشندے اس کے مقابلہ پر کمر بستہ ہوں گے اور شکست کھا ئینگے کیونکہ خدا تعالے اس وقت یعقوب کے دونوں گھرانوں سے ناراض ہو چکا ہوگا اور موسوی شریعت کی صنف پیٹی جا چکی ہوگی۔مندرجہ بالکل پیشگوئی کی تفصیل بائبل کی ان آیات میں بیان ہوئی اور ان میں سے چند درج ذیل ر آئی کے ماخوذ ہے (مرتب)