المبشرات — Page 81
صاحب جو اس وقت سترہ برس کے تھے اپنے ہاتھ میں ایک بند پیکٹ لائے اور کہا کہ کسی نے مجھے یہ بھیجوایا ہے حضور نے اسے کھولا تو معلوم ہوا کہ انگریزی حکومت کے خلاف اشتہارات ہیں۔چونکہ جماعت احمدیہ کے دینی عقائد میں حکومت وقت کی اطاعت ایک لازمی جز ہے اس لئے حضور نے فورا متعلقہ صیغہ کے افسر کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ بلا تاخیر یہ پیکٹ صوبہ کے گورنر کو بلاتا بھیجوا دیں اور لکھیں ممکن ہے بعض اور نوجوانوں کو بھی ایسا قانون شکن لٹریچر موصول ہوا ہو۔اس لئے آپ کو بھیجوایا جا رہا ہے جو محکمانہ کاروائی کرنا مناسب سمجھیں کریں حضور ابھی یہ ہدایت دے کر لوٹے ہی تھے کہ چند منٹ کے بعد پولیس آدھمکی اور اس نے پیکٹ کو شاخسانہ بنا کر کو بھٹی کا احاطہ کر کے اس کی نشست گاہ اور برآمدہ پر قبضہ جما لیا تھوڑی دیر بعد بار در پولیس بھی آگئی جو بارہ بجے سے سات بجے شام تک برابر آٹھ گھنٹے رائفلیں لئے کوٹھی کے صحن میں کھڑی رہی۔دراصل جدیا کہ بعد کو تحقیقات ہوئی پولیس نے قانون کی میں دفعہ کے ماتحت اس مکروہ برچھا گردی کا مظاہرہ کیا تھا اس کے ماسخت اسے کسی کا روائی کا اختیار ہی میں نہیں تھا۔اور پولیس خود پیکٹ کے منصوبہ میں شریک تھی۔عجیب بات یہ ہے کہ جس وقت یہ سانحہ پیش آیا خواب کے عین مطابق صاجزادی ازته القیوم صاحب اور حضرت سیده مریم بیگیم رضی اللہ عنہ) بھی موجود تھیں حالا نکہ صاحبزادی صاحبہ چند دن بیشتر سرگودھا میں کہیں اور حضرت مریم بیگم دریایی رضی اللہ عنہا کا ارادہ ڈلہوزی سے واپس جانے کا تھا۔