المبشرات — Page 23
کیا جا رہا ہے جو ہماری نگاہ میں کسی نہ کسی رنگ میں پورا ہو چکا ہے۔پورا ہونے کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ کلام اہنی کی سبھی تعبیریں ظاہر ہو چکی ہیں اب ان کے دوبارہ یا سہ بارہ ظہور کا امکان نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی خبریں اکثر مختلف زمانوں اور گوناگوں رنگ میں پوری ہوتی ہیں اور اس طرح ان کا تکرار کے ساتھ دنیا کے سامنے آنا پیش گوئی کی عظمت میں اضافے کا موجب ہی بنتا ہے۔پس ممکن ہے کسی وقت ان پیش گوئیوں کا ظہور کسی اور رنگ میں بھی مقدر ہو اور یہ ظہور پہلے سے بھی زیادہ شاندار ہو۔تاہم موجودہ شکل میں پورے ہونے والے کشوف بھی کیفیت و کمیت دونو لحاظ سے خارق عادت پہلو لئے ہوئے ہیں۔کمیت کے لحاظ سے ان کی تعداد دو سو سے متجاوز ہے اور کیفیت کے لحاظ سے وہ آپ کی ذات آپ کے خاندان اور جماعت احمدیہ کے علاوہ غیر از جماعت بلکہ غیر مسلم حلقوں سے لے کر دنیا کے بین الاقوامی واقعات پر محیط ہیں۔قارئین کرام ! کلام الہی کا تسلسل بتاتے ہوئے ہم انسانیت کے اولین دور تہذیب و تمدن سے گزر کر علمی اکتشافات کے موجودہ زمانہ میں آپہنچے ہیں۔ہمیں اعتراف ہے کہ باب کا آخری حصہ کچھ طوالت پکڑ گیا ہے لیکن ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ پسر موعود کے وجود کو بیسویں صدی کے روحانی ماحول میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے ورنہ یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود کی پیدا کردہ جماعت میں خدا کے فضل سے سینکڑوں اہل کشف و الہام بزرگ موجود ہیں اور ہمارا اعتقاد ہے کہ الہام و کلام کا یہ سلسلہ قیامت تک بدستور جاری و ساری رہے گا کیونکہ اب اسلام ہی نوسٹی کا طور ہے جہاں خدا بول رہا ہے اور مسیح موعود حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے آفتاب حقیقت سے