المبشرات

by Other Authors

Page 55 of 309

المبشرات — Page 55

جانفشانی سے کام لیا ہے اس سلسلہ میں حضرت ابو الفضل حسین ابن ابراہیم اور حضرت شیخ عبدالغنی نابلیسی رحمتہ اللہ علیہ کا نام ہمیشہ یاد گار رہے گا جنھوں نے "کامل التعبير اور تعطیر الانام " کے نام سے مفصل تصانیف کیں لیکن ر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے سوا ) حضرت مسیح موعود اور حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالٰے نے موجودہ زمانہ میں علم تعبیر الرؤیا کے گوشوں پر جو تیز روشنی ڈالی۔اس نے دن ہی چڑھا دیا۔علیم تعبیر کے چند اصول درج ذیل ہیں : ا خواب کا ہر حصہ تعبیر طلب نہیں ہوتا بعض نظارے محض تحسین کی فرون سے شامل رویا ہوتے ہیں۔- تعبیر رویا میں نام اکثر بھاری عمل دخل رکھتے ہیں۔-۳ خوابوں کی تعبیر پرشخص کے مقام اور حالت کے موافق بدل جاتی ہے۔ایک دفعہ حضرت ابن سیرین کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بیان کیا کہ میں گندگی کے ایک ڈھیر پر برہنہ کھڑا ہوں حضرت ابن سیرین گنے کہا کہ اگر کوئی کا فریا فاسق یہ خواب دیکھتا تو اس کی تعبیر اور ہوتی لیکن تیسرے لئے اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا غلاظت کا ڈھیر ہے جس میں تو موجود ہے اور تیرے برہنہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ تیرے صفات حسنہ سب لوگوں کے کھلیں گے لیے -۴- خواب کی تعبیر کا بہتر طریق خیالات کا معلوم کرنا ہے کہ کسی چیز میں کسی شے کا گمان ہو سکتا ہے۔کبھی ایسا ہوا کرتا ہے کہ مسمی سے اسم کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے جیسے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب ه دالیدر و ر جنوری ) بحوالہ مکاشفات مسیح موجود مؤلفه منظور الى صاحب ۱۲