المبشرات

by Other Authors

Page 54 of 309

المبشرات — Page 54

i ۵۴ خواب تابع وحی کی دوسری قسم خواب ہے۔خواب کو مذھبی دنیا میں ہمیشہ خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔اور وہ تاریخ وحی ہونے کے باوصف قطعی اور یقینی طور پر عرفان الہی کا اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام محض رؤیا کی بنا پر اپنے معصوم بیٹے حضرت اسماعیل کا سر تن سے جدا کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور پھر انہیں اپنی چہیتی ہوں حضرت ہاجرہ کے ہمراہ کنعان سے مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں اکیلا چھونے پر ذرہ قاتل نہ کیا۔پھر یہ خواب ہی کا کرشمہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کی عظیم جمعیت لے کر پیدل ہی مدینے سے کے کی طرف چل دیئے اور ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر بخوشی برداشت کر لیا۔کشف کی طرح تو اب بھی یا تو اپنی ظاہری شکل میں پورے ہوتے ہیں یا تعبیری رنگ میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔علم تعبیر الرویا پر ایک ابر تر کشوف ورڈ یا کا ایک حصہ تعبیرطلب ہوتا ہے اجمالی نوٹ اس لئے ایک ربانی انسان کے لئے علم تیار کیا میں دستگاہ حاصل کرنا ضروری ہے۔علم التعمیر ایک وبی علم ہے جس کی سرد ہیں علم و عرفاں کی وسعت کے ساتھ ساتھ پھیلتی جاتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز رویا صالحہ سے ہو اہے اور حضور نے اس علم کو اپنی اہمیت بخشی کہ آپ نے اپنا معمول بنایا ہوا تھا کہ نماز فجر کے بعد صحابہ سے خوا ہیں سنتے اور تعبیر بیان تواہیں فرماتے تھے۔مستند احادیث میں حضور کے متحد و رویا اور ان کی تعبیر ری ہے علماء اسلام نے علم التنبیر کے قواعد و ضوابط مدون کرنے میں بڑی تعمیل سمجھ لئے ملاحظہ ہوں بشارات رحمانیہ 4 بخارى كتاب الرؤيا۔