المبشرات — Page 37
۳۷ دھندے سے نقوش بھی اُن میں موجود ہوں۔یہ خصوصیت صرف اسلام کو حامل ہے کہ وہ ایسا واحد روحانی ادارہ ہے جس کی سمادی تجربہ گاہیں آج تک قائم ہیں اور قیامت تک دعوت نظارہ دیتی رہینگی۔قرآن مجید سامری کے بچھڑے کا ذکر کرتے ہوئے کیا لطیف پیرائے میں فرماتا ہے الم يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُم کہ بچھڑے کو خدا سمجھنے والوں نے یہ کیوں نہ دیکھا کہ وہ کلام نہیں کرتا۔اگر چھڑا خدا ہوتا تو اسے ضرور بولنا چاہیئے تھا پس اسلام کسی ایسے خدا کا قائل نہیں جو گونگا ہے اس کے نزدیک تو ایسے ضا" کو نذر آتش کر کے سمندر کی لہروں کے سپرد کر دینا چاہیئے وہ چودہ سو سال سے یہ منادی کر رہا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ لَمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ المَليكة الا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ الشروا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ترجمہ : جو لوگ اللہ کو اپنا رب تسلیم کر کے استقامت دکھاتے ہیں اُن پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ خوف و حزن نہ کرو تمہیں اس حیثیت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔اسلام اپنے معتقدین کو فقط گذشته معجزات کا حوالہ نہیں دیتا نہ محض قیامت کا وعدہ کرتا ہے بلکہ عرفان الہی اور دیدار الہی کے دروازہ سے اس دنیا میں بھی کھولتا ہے اس کا صاف صاف اعلان ہے۔من كان في هذه أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى نیز وہ کہتا ہے :- الله كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلَهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا ے اعتراف ع ۱۸ ه حم سجده ۴۶ نه بنی اسرائیل ۸۶