المبشرات — Page 287
٣٠٣۔۔۔۔۔ہی استعمال کیا گیا۔جس جگہ پر یہ واقعہ ہوا چودھری صاحب کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے دنس دنس میں دُور تک کوئی پکی سڑک نہیں ہے۔صرف ریل کی پٹڑی گزرتی ہے اس لئے اعداد کے لئے اس جگہ تک کوئی موثر نہیں آسکتی تھی اس طرح وہ جگہ جزیرے کی طرح تھی میں سمجھتا ہوں کہ رویا میں ہوائی جہاز کا دکھایا جانا اور واقعہ ریل میں ہونا اور پھر یہ گاڑی بھی مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی۔اس طرح دوسری سب باتوں کا ہونا بتاتا ہے کہ یہ ایک تقدیر مہم تھی لیکن خدا تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو منکر اس حادثہ کو سجائے ہوائی جہاز کے ریل میں بال دیا ہوائی جہاز میں ایسا حادثہ پیش آجائے تو اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے شاذ ہی کوئی شخص اس قسم کے حادثہ سے بچتا ہے لیکن یہی حادثہ ریل میں پیش آجائے تو اس سے کسی انسان کا بچ جانا ممکن ہے اور پھر وہ ریل مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی جب پینے اخبار میں وہ واقعہ پڑھا تو مینے محسوس کیا کہ میری وہ خواب پوری ہو گئی ہے لینے میاں بشیر احمد صاحب سے اس کا ذکر کیا جن کو میں یہ خواب اسی وقت بتا چکا تھا جب یہ آئی تھی انہوں نے بھی کہا کہ واقعہ میں وہ خواب پوری ہوئی اہے لیکن بینے اخبار میں یہ واقعہ پڑھ کر چودھری صاحب کو یہ لکھنا پسند نہ کیا کہ میری رویا پوری ہوگئی ہے کیونکہ رویا میں انہوں نے پہلے اطلاع دی تھی اس لئے مینے یہی پسند کیا کہ وہ اضلاع دینگے تومیں لکھوں گا چنانچہ دوسرے دن چودھری صاحب کی تار آگئی کہ آپ کی رؤیا پوری ہو گئی ہے اور خدا تعالے نے مجھے اس حادثہ سے بچا لیا ہے۔یہاں صرف رڈیا کا سوال نہیں کہ وہ پوری ہو گئی بلکہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی جو دعاؤں سے بدل گئی رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے ہوائی جہاز دکھایا تھا لیکن وہ واقعہ اسی بہت میں اور اسی شکل میں ریل میں پورا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا تقدیر مبرم تھا لیکن خدا تعا نے کہا چلو ان کی بات بھی پوری ہو جائے اور اپنی بات بھی پوری ہو EX