المبشرات — Page 223
و ت۲۳ ۱۹۳۵ء دے مٹی) اتحادیوں کے آگے جرمنوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔اور دوسری عالمگیر جنگ کا خاتمہ ہوا۔پہلی خیر " چند سال ہوئے کینے رویا میں دیکھا تھا کہ میں گھر کے اُس حصہ میں ہوں جو مسجد مبارک کے اوپر کے صحن کے ساتھ ہے کیلئے مسجد میں شورشنا اور با ہر نکل کر دیکھا کہ لوگ اکٹھے ہیں۔اُن میں سے ایک میرے استاد بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب بھی ہیں سب لوگ مغرب کی طرف انگلیاں اٹھا اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ دیکھ لو مغرب سے سورج نکل آیا اور وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب قیامت آگئی میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ اس وقت پہاڑیاں گر رہی ہیں درخت ٹوٹ رہے ہیں اور شہر ویران ہو رہے ہیں اور ہر ایک کی زبان پر یہ جاری ہے کہ تباہی آگئی قیامت آگئی میں بھی یہ نظارہ دیکھتا ہوں تو کچھ گھر ا سا جاتا ہوں مگر پھر میں کہتا ہوں مجھے اچھی طرح سورج دیکھ تو لینے دو۔میں خواب میں خیال کرتا ہوں کہ قیامت کی علامت صرف مغرب سے سورج کا طلوع نہیں بلکہ اس کے ساتھ کچھ اور علامات کا پایا جانا بھی ضروری ہے چنانچہ ان دوسری علامات کو دیکھنے کے لئے میں مغرب کی طرف نگاہ کرتا ہوں تو وہاں بعض ایسی علامتیں دیکھتا ہوں جو قیامت کے خلاف ہیں اور غالیا سورج کے پاس چاند ستارے یا تو ر دیکھتا ہوں اور کہتا ہوں یہ قیامت کی علامت نہیں دیکھو فلاں فلاں علامتیں اس کے خلاف ہیں۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ لینے دیکھا سورج غائب ہو گیا اور دنیا پھر اپنی اصلی حالت پر آگئی؟ (مرتب) یہ رویا دوسری عالمگیر جنگ سے تین برس پہلے کی ہے بغور فرمائیے اس میں جنگ کی قیامت خیز تباہ کاریوں کا کتنا جامع نقشہ کھینچا گیا ہے۔ے ماخوذ از الفصل 14 مئی ۹۳۵اء - سے و الفضل ۱۷ام فروری ۳۵ نداء منا کالم عشب ۲ - طرب