المبشرات — Page 217
appp مقرر کئے ہوئے ہند و افسر چھوٹے سے بڑے طبقہ تک ملک کی عظیم اکثریت کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے اور خود ہندوستانی مسلمان ایک دوسری حکومت کے ماتحت اقلیت کی صورت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور بظاہر کامیابی کی کوئی کردن نظر نہ آتی تھی اور مسلمان بے حد بایوس اور نا امید نظر آتے تھے۔یہ وہ حالات تھے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد رڈیا کے ذریعہ سے متواتر تیر دی کہ اس تحریک میں خدائی مشیت کام کر رہی ہے اس لئے ریاست کا تشد و برطانوی حکومت کی بے نیازی اور ہند و سرمایہ کی فراوانی اس کے شاندار نتائج میں حائل نہیں ہو سکتی۔اس تعلق میں چندر کویا درج ذیل کی جاتی ہیں : ینے خود بھی خواب دیکھا ہے کہ ایک مجلس ہے میں میں بہت سے پہلا رویائے مقررین جمع میں میں ان کے سامنے کشمیر کے حالات بیان کر رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ حالات امید افزا ہیں اور درمیانی روکیں کوئی ایسی رکھیں نہیں۔اور انہیں تحریک کرتا ہوں کہ آپ لوگ اگر کچھ رقم خرچ کریں تو آستانی سے یہ کام ہو سکتا ہے۔پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک کے ساتھ ہی اُن لوگوں میں حرکت شروع ہوئی اور حاضرین ایک دوسرے کے کان میں باتیں کرنے لگے۔اس کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کاغذ پھرایا جائے رکھا گویا وہ چندہ کرنے لگتے ہیں کیئے اس کی تعبیر یہ سمجھی ہے کہ بعض اوقات جو مایوسی کی گھڑیاں آتی ہیں۔وہ حقیقی نہیں بلکہ درمیانی روکیں ہیں اور مسلمان اگر عالی قربانی کریں تو یہ کام ہو سکتا ہے ؟ ! دوسرا رویا کی " میں جمعہ کے بعد رات کو بستر پر لیٹا ہوا تھا۔اور غالباً نصف شب کے بعد کا وقت تھا والفضل ۳۰ جنوری ۱۹۳۳ م کالم ۰۲۱۶