المبشرات

by Other Authors

Page 216 of 309

المبشرات — Page 216

۲۳۲ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۲۵ جولائی ۱۹۳ ء کو شملہ میں جمع ہوئے اور ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔اور علامہ مشرق کی تجویز پر آپ سے اس کی زمامی قیادت تھے میں لینے کی درخواست کی گئی جسے آپ نے داس مخصوص روحانی مقام کے باوجود جو لاکھوں کی جماعت کے دینی پیشوا ہونے کی حیثیت سے آپ کو حاصل تھا) محض اخوت اسلامی کے تقاضوں کے پیش نظر قبول فرمائی۔جس وقت آپنے یہ کٹھن کام اپنے ذمہ لیا اس وقت کشمیری با سخندوں کی لاحات کی قدر درد انگیز تھی اس کا نقشہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاس اتول کی روداد میں بایں الفاظ کھینچا گیا۔ریاست میں اس وقت تک نہ پریس کی اجازت ہے نہ تقریر کی اجازت ہے اجتماع کی ہے اور کوئی ایسی صورت نہیں کہ جس سے پُر امن طریق سے رعایا حکومت تک اپنے خیالات پہنچا سکے۔اسی طرح مذہبی آزادی ہو کہ تہذیب کا پہلا رکن ہے اس سے بھی کشمیر محروم ہے چنانچہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو جائے تو اس کی جائندہ ضبط کر لی جاتی ہے اور بیوی بچوں سے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے نیز زمین کے مالکا حقوق سے بھی وہ لوگ محروم ہیں کیونکہ زمینداروں کو خود اپنی زمین پر مالکانہ حقوق نہیں دئیے جاتے اور ریاست اپنے آپ کو پورے کشمیر کی زمین کی مالک سمجھتی ہے اسی طرح با وجود تعلیم یافتہ ہونے کے مسلمانوں کو ملازمت میں نہایت ہی قلیل حصہ دیا جاتا ہے جو تین فیصدی ہے۔اس افسوسناک صورت حال کے مقابل حکومت ہند ( ۱۹۲۷ء سے قبل کی حکومت ہند مراد ہے، ریاستی معاملات میں دخل دینے کے لئے تیار نہ تھی اور مہاراجہ کے