المبشرات

by Other Authors

Page 98 of 309

المبشرات — Page 98

۹۸ حصول میں تیری طرح ناکام ہو کہ اس جہان سے چل بسے تھے۔ظاہر ہے یہ صورت حال زیادہ وقت تک جاری رہتی تو مرکز کی تعمیر کا سارا خواب دھرے کا دھرا رہ جاتا اور جماعت احمدیہ ایک لیے عرصہ تک اپنی مرکزی خصوصیت سے محروم ہو کر انتشار کا شکار ہو جاتی۔حضرت امام جماعت احمدیہ یہ تشویش ناک کیفیت دیکھ کر اللہ کے حضور حسم التجاننے اور دعا کی کہ انہیں جب تیری ہی خبروں کے مطابق یہ اسلامی مرکز تعمیر ہو رہا ہے تو اپنے فضل کے ساتھ پانی کی نعمت بھی عطا فرما اس گریہ وزاری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خوشخبری عطا ہوئی وہ حضور ہی کے قلم سے پڑھئے۔دو مجھے پر ایک غنودگی سی طاری ہوگئی۔اسی نیم غنودگی کی حالت میں پینے دیکھا کہ میں خدا تعالے کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں ے جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا " مینے اسی حالت میں سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں جاتے ہوئے " سے کیا مراد ہے اس پر کیسے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکا لیکن میں طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا اسی طرح اللہ تعالی کوئی ایسی صورت پیدا کرنے گا کہ جس سے تمہیں پانی بافراط میسر آنے لگے گا۔پاؤں کے نیچے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالے نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے جس طرح وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی بہہ نکلا تھا اسی طرح یہاں خدا تعالیٰ میری دعاؤں کی وجہ سے پانی بہا دے گا یہ ایک محاورہی ہے جو محنت کرنے اور دعا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ہم نے اپنا پورا زوریگا