المبشرات — Page 5
وه کی جاتی ہیں :۔لا تسوج نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو سمالوں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔۔۔۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خلا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کا میوہ لائے دے دی جائے گی۔جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا جس پر دو گرے گا اُسے پیس ڈالے گا لے ب میں اُن کے لئے اُن کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا۔کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب ان کو کسے گاہ اور جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کرکے گا نہ سنیگا تو میں اُس کا حساب اُس سے لوں گا۔ہے ج- میرا محجوب سرخ و سفید ہے دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے۔اس کا منہ شیریں ہے ہاں وہ محمدیم رہے۔وہ قوموں کے دور سے ایک جھنڈ اکھٹا کرتا ہے اور دیکھ وے دوڑ کے جلد آتے ہیں۔کوئی ان میں نہ تھک جاتا اور نہ پھسل پڑتا ہے وے نہیں اونگھتے اور نہیں ہوتے اُن کا کمربند کھلتا نہیں ہے اور نہ اُن کی جوتیوں کا قسمہ ٹوٹتا ہے اُن کے تیر تیز میں اُن کے گھوڑوں کے سم چقماق کے پتھر کی مانند ٹھرتے ان کے پیسے گردباد کی مانند ہے شیرنی کی ماند رہتے ہیں تالے غراتے اور شکار پکڑتے اور بے روک ٹوک مئی باب ۲۱ آیت ۴۲ - ۴۶ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸-۲۰ ۰۳ غزل الغزلات بات آیت ۱۲-۱۲ ه عبرانی میں اس مقام پر بالصراحت " محمدیم ) کا لفظ مذکور ہے جس کا ترجمہ سراپا عشق انگیز کے الفاظ میں کیا جاتا ہے حالانکہ محمدہ آنے والے نبی کا نام ہے اور یم کے الفاظ عبرانی محاورہ کے مطابق تعظیم کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔(مرتب) ه غزل الغزلات بات آیت ۱۵-۱۶