المبشرات

by Other Authors

Page 119 of 309

المبشرات — Page 119

۱۲۳ پہلے ہی بہت سے دوستوں کو سُنادی تھی جن میں سے چند کے نام یہ ہیں:- تو آب محمد علی خان صاحب مولوی سید سرور شاہ صاحب شیخ یعقوب علینا حافظ روشن علی صاحب اور غالباً ماسٹر محمد شریف صاحب کی اے پلیڈ ر چیف کورٹ لاہور کہ مجھے ایک ضروری امر کے لئے حضرت کی بیماری میں لاہور جانے کی ضرورت ہوئی اور چونکہ حضرت کی حالت نازک تھی سینے جانا مناسب نہ سمجھا اور دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں اور ان کو بتایا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ سینے رویا میں گاڑی میں سواری کی حالت میں حضرت کی وفات دیکھی ہے پیس ایسا نہ ہو کہ یہ واقعہ ابھی ہو جائے نہیں لیتے یہ تجویز کی کہ ایک خاص آدمی بھیجبکہ اس ضرورت کو رفع کیا۔لیکن منشائے الہی کو کون روک سکتا ہے چونکہ حضرت نواب صاحب کے مکان پر رہتے تھے میں بھی وہیں رہتا تھا اور وہیں سے جمیعہ کے لئے قادیان آتا تھا جس دن حضور فوت ہوئے میں حسب معمول جمعہ پڑھانے قادیان آیا اور جیسا کہ میری عادت تھی نماز کے بعد بازار کے راستہ سے واپس جانے کے تیار ہوا کہ اتنے میں نواب صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ احمدیہ محلہ میں میرے منتظر ہیں اور مجھے بلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے مجھے سے کچھ بات کرنی ہے میں وہاں گیا تو ان کی گاڑی تیار تھی اس میں وہ بھی بیٹھ گئے اور میں بھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن بھی ہمارے ساتھ تھے گاڑی آپ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئی اور میں وقت اس سڑک پر چڑھی جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی گراؤنڈز میں تیار کی گئی ہے تو آپ کا ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا کہ حضور فوت ہو گئے اس وقت میں بے اختیا ہو کر آگے بڑھا اور گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ اسی وقت نواب صاحب کو وہ رویا یاد آئی اور آپ نے کہا کہ وہ رویا پوری ہو گئی۔