المحراب

by Other Authors

Page 88 of 207

المحراب — Page 88

جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔۲۰ دسمبر کو حضور زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور مستورات سے خطاب فرمایا اپنے خطاب میں حضور نے پردہ اور خصوصاً چہرہ کے پردہ کی طرف توجہ دلائی۔پھر یہ قارعمل کے ذریعے سادگی اور صفائی کی طرف توجہ دلائی۔نیز فرمایا۔لجنہ کو اب ہوشیار ہو جانا چاہیے۔دین حق ( ناقل) اور کفر کی لڑائی ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ تم اتمھاری مائیں بہنیں، لڑکیاں، مرد اور تجھے پوری طرح میں شامل نہ ہوں۔دشمن سمجھتا ہے کہ میرے حملے سے لیسے ایک عظیم الشان دروازہ کھلا ہے وہ دروازہ عورت ہے جسے گھر کی دہلیز کہا جاتا ہے۔لجنہ کو چاہیے کہ وہ عورتوں میں میداری پیدا کر سے قربانی کی روج جماعت میں موجود ہے صرف خور توں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے؟" جلسہ میں کی جانے والی خواتین مقررین کی تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔تحریک و قف زندگی حضرت سیدہ مریم صدیقہ حصول قادیان کے لیے نہیں کیا کچھ کرنا چاہیے امتہ اللطیف صاحبہ احمدی خواتین اور فریضہ تبلیغ پردے کی اہمیت امته الرشید شوکت صاحبه جمیلہ عرفانی صاحبہ اینما نگو نوایات یکم الله جميعا حضرت سیده مهر آیا حضرت مصلح موعود کے دور کی عظیم ترقیات نصیرہ نزہت صاحبہ بعثت محمدیہ کا دوسرا دور اسلامی تمدن تنظیم لجنہ اماء الله امتہ اللہ خورشید صاحبہ ستید و فضیلت بیگم صاحبہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صنعتی نمائش۔پاکستان بننے کے بعد ۱۹۳۵ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر پہلی بار لمجنہ اماءاللہ کی صنعتی نمائش قادیان کی طرح نہ بوہ میں بھی لگائی گئی۔دي انسٹھ واں جلسہ سالانہ انتقاده: ۲۶ ۲۸/۲۷ دسمبر ۲۱۹۵۰ بمقام : ریوہ ۲۶ دسمبر کو حضور نے افتتاحی خطاب فرمایا جس میں حضور نے فرمایا۔او ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کے وہ لاعلاج مریض ہیں کہ اس مرض کو دور کرنے کا خیال بھی ہمارے جسموں پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ہم ملک آزادیاں عمرت، مال اور جانیں تک قربان کر دیں گے لیکن خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑ سکتے ۲۷؍ دسمبر کو دوسرے اجلاس میں خطاب فرماتے ہوئے حضور نے متفرق امور پر تقریر فرمائی کہ نیز حضور نے اپنے خطاب میں علمائے مخالف کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات مسلسل تقسیم ہندا در جماعت احمدیہ کا برطانوی ایجنٹ ہونے کا مفصل و مدلل جواب دیا۔حضور نے اس سلسلہ میں حقائق بیان کر تے ہوئے مخالفین کے اس افترا کی قلعی کھولی۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا۔با وجود نامساعد حالات کے میرے توجہ دلانے پر جماعت قربانی کا نہایت اچھا نمونہ پیش کیا۔دنیا میں صرف جماعت احمد یہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں گدانہ اور آپ کے نام اور عزت قائم کرنے والی ہے۔۱۳۸ دسمبر کو اپنے اختتامی خطاب میں حضور نے اسیر پر دھانی کے موضوع پر تقریبہ جلسہ کے انتظامات ، جلسہ سالانہ ۱۹۳۹ہ کے موقع پر پہلی مرتبہ مستورات کے فرمائی اور اس سلسلہ مضمون کے پانچویں حصہ کو بیان کیار یہ مضمون حضور نے مشہوار کے لیے لنگر خانہ کا علیحدہ انتظام کیا گیا جب میں نمایاں کامیابی ہوئی۔جلسہ کے اختتام پر ۲۸ دسمبر کی رات حضور نے کارکنات سے خطاب فرما یار اور الوداعی دعا کروائی۔۲۷ دسمبر کی بات کو لجنہ اماءاللہ کی شوری بھی منعقد ہوئی۔اس جلسہ میں علمائے سلسلہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔جلسہ سالانہ سے شروع کیا تھا۔ذکر جلیب حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق حضرت میں مولود کی شدید مخالفت کے باوچی پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ان کی کامیابی ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا او انا مولوی عبدالمان صاحب اگر قدیم المثال ہے پسر موعود کی پیش گوئی کا ظہور قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری نامحرم مرد وخوت کا آنا ان احلا اسلام مولوی عبدالغفور صاحب فاضل نے کیوں منع کر دیا ہے" ۹۱