المحراب — Page 82
نیز حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی تقریر اور ذکر حبیب کے موضوع پر حضرت مفتی محمد سے خطاب فرمایا۔اپنے اس خطاب میں حضور نے خواتین کو زیادہ لمبنات قائم کرنے کی تلقین صادق کی تقریر بھی جائے نگاہ سے براہ راست سنی گئیں۔جلسہ خواتین میں کی جانے والی تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔جلسہ سالانہ کی معراض غایت۔استمانی میمونه صوفیه صاحبه اسلام میں عورت کا درجہ امتدانند گی الیه مولوی خورشید احمد صاحب۔استانی امتد الرحمن صاحبہ۔خواتین کا طریق تبلیغ۔دور حاضر میں احمدی خواتین کی جد و جہد امتہ السلام صاحیہ وحیت کی عزت اور اہمیت امتہ المجید صاحبہ انسانی پیدائش کی مرض اور ہماری دکتر داریا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ۔فرمائی اور عورتوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی نصیحت فرمائی نیز فرمایا کہ خوانده نہیں نا خوانداہ کو پڑھائیں اور جہاں کوئی عورت خواندہ نہ ہو وہاں مرکز سے عورتیں بھیج کر عورتوں کو بڑھایا جائے۔حضور نے اس بات کا اظہار بھی فرمایا کہ آجکل ہر طرف یہ شور ہے کہ عورتوں کو بھی مردوں کے برابر سلاد میں ملنی چاہئیں اگر وہ مردوں کے برابر کام کر سکتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ دین کے میدان میں پیچھے رہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نصف دینا عائت سے سیکھو۔اس کا یہ مطلب ہے کہ آدھا دین مردوں کے حصہ میں ہے اور آدھا دین عورتوں کے حصہ میں ہے۔۲۸ دسمبر کو بارش کی وہد سے زنانہ جلسہ کا پروگرام منعقدہ نہ ہوسکا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۷ دسمبر کو رنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لا کر مستورات خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ماتحت ۱۹۴۷ء میں مسلمانان ہند کی طویل جدوجہد کے نتیجہ میں ملک ہند کی تقسیم ہوئی اس تقسیم کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کا دائی مرکز قادیان ملک ہندوستان میں شام کہ دیا گیا۔حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی نے قادیان سے ہجرت فرمائے اور لاہور تشریف لے گئے، صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا اور جماعت کا عارضی مرکز لاہور قرار پایا۔قادیانتت بیرت عالی سالانہ حسب روایت ۲۷۰۲۶، ۲۸ دسمبر کو بیت الاقصی میں منعقد ہوا لیکن حضرت خلیفہ المسیح جو اس تقریب کے روح رواتے تھے قادیان کے بستر میں ملکی دسیاسی مشکلات کا ایک خوفناک مندر حالت ہونے کی وجہ است عبلہ میں شرکت نہ کر سکے۔۹ہ کے جلسہ میں بوجہ فسادات و بد امنی نہ صرف اپنے علاقوں سے جو پاکستان میں شامل ہے ہوئے بلکہ ہندوستان کے دیگر ملا قوت سے بھی کوئی احمدی شریک سے نہ ہو سکا۔در ویت انجے قادیانی نے ظلمت کے است دشت میں امام آخر الزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کے جلائی ہوئی ھے اس شمع کو فروزات رکھا قادیات ہیں چار سالانہ کا سلسلہ جاری ہے رہا اور فضلات تعالی آج بھی جاری ہے۔اس سال ہم میں سے اکثر ان کے جلسہ کی ہدایت کے سوسال پورے ہونے پر خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے سو دیر سے جاری سالانہ کی تقریب میں شمولیت کے لئے دائی مرکز احمدیت قادیانت دار الا مارنے میں جمعے ہو رہے ہیں ہے اور وہ رخ انور وہ شمع خلاف تے جس کے تور نیلے کاروان سے احمدیت ، دانے دارے ہے ایک بار پھر دام سالح بعد مسیح موعود کی یاد گار ملی سالانہ میں رونق افروز ہونے والی ہے۔یہارے سے جلسہ کی روداد کے سفر کا رخ پاکستان میں شیعے خلافت کے نور تھے ہونے والے جبوت کے طرف سے ہوتا ہے۔قادیان میں منعقد ہونے والے جلوت کی د ندارد علیحدہ مضمون کی صورت میں اس خلا میں دوسری جگہ دکھتے جار ہوتی ہے۔AA