المحراب — Page 53
میں جماعت کو تزکیہ نفس کی نصیحت فرمائی نیز دیگر جماعتی امور بیان فرمائے حضور کی ۱۲۸ کیا گیا تھا میں میں عام عورتوں کو جانے کی اجازت نہ تھی۔جو مستورات خلیفہ المسیح الثانی دسمبر کی تقریر کا عنوان ملائکہ اللہ تھا۔مضمون کے ابتدائی تعارف کے بعد آپ نے کے علمی مضامین کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں انہیں باقاعدہ ٹکٹ لے کر شامل ہوتے ملائکہ کے بارے میں رائج الوقت تصور بیان فرماتے ہوئے اس کی غیر معقولیت کو کی اجازت تھی۔۲۹ دسمبر کو حضور کے خطاب کے علاوہ جلسہ میں بعض مرد علماء کی بھی ثابت فرمایا اور بتایا که در حقیقت رائج الوقت تصور هرگز قرآن و حدیث کی تعلیم پریمینی تقریریں ہوئیں مستورات نے بھی تقریریں کیں۔نہیں بلکہ وہ توہمات اور خیالات ہیں جو غیر قوموں سے ماخوذ ہیں، آپ نے یہ ثابت کیا کہ یہ ایک ایسا غلط تصور ہے جس کے ہونے یا نہ ہونے سے دین میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ نے بتایا کہ فرشتے خدا کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور اجنحة کے ( تاریخ لجنه علد اول صدا ۵۲۱۵) معنی پر نہیں بلکہ صفات کے ہیں جو ان میں پائی جاتی ہیں۔آپ نے قرآن و حدیث تیں واں جلسہ سالانہ سے فرشتوں کے سترہ کام ثابت فرمائے۔تقریر طویل ہو جانے کی وجسے باقی حقہ ۲۹ دسمبر کو بیان فرمایا۔تقریر کے اختام پر آپ نے دس ایسے طریق بیان فرمائے جن کو اختیار کرنے معقده ۲۶ تا ۲۹ دسمبر ۶۹۳۷ سے انسان فرشتوں سے زندہ تعلق قائم کر کے فیضیاب ہو سکتا ہے جن میں سے آخری بمقام بيت النور قادیان طریق ملائکہ سے فیضیابی کا سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۹ سے یہ بیان فرمایا کہ خلیفہ کے چائی سالہ لہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۸۰۲۷ اور ساتھ تعلق ہو آپ نے فرمایا۔خلافت سے تعلق رکھتے والوں کی یہ علامت ہوگی کہ ان کو تسلی حاصل ہوگی اور پہلے صحابہ اور انبیامر کے علم ان پر ملائکہ نازل کریں گے پسی ملائکہ کا نزول خلافت سے وابستگی پر بھی ہوتا ہے۔“ ( ملائکہ اللہ ص۱۹) دمیر کو بستی باری تعالیٰ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔اس تقریر میں حضور نے ہستی باری تعالی کے دلائل اور اس کی صفات بیان فرمائیں ، شرک اور اس کی باریک در بازی اقسام ، روبیت الہی اور اس کے مدارج اور اس کے طریق حصول پر ایسی زبر دست روشنی ڈالی کہ گویا دن ہی چڑھا دیا۔در تاریخ احمدیت جلد پنجم صد (۲۹) حضور کا یہ خطاب کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے حضور کی یہ بے مث تقریر ملائکتہ اللہ کے نام سے کتابی شکل میں شائعے اس طلبہ میں علمائے سلسلہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔ہو چکی ہے۔جلن کی سالانہ کی دیگر تقاریہ درج قبیل تھیں۔مشن انگلستان اور ہمارا کام حضرت چوہدری فتح محمد سیال رپورٹ صدر انجمن احمدید حضرت ڈاکٹر رشید الدین اسلام کا طریق عبادت بمقابلہ دیگر مناسب حضرت مولوی رحیم مکیش احمد نظارت امور عامہ کی رپورٹ حضرت مولانا ذوالفقار علی خان حضرت مسیح موعود کے احسانات حضرت میکم خلیل احمد بو گھری صداقت حضرت مسیح موعود اسلام اور دیگر مذاہب حضرت حافظ نه روشن علی شیخ عبدالرحمن مصری مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ حضرت میر قاسم علی اور اخلاق فاضلہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاه رپورٹ نظارت تعلیم و تربیریت ماسٹر علی محمد صاحب رپورٹ نظارت مال و اپیل چنده مولوی عبد المغنی صاحب سیرت حضرت مسیح موعود حضرت حافظ روشن علی میائین اور غیر مبایعین میں اختلافات حضرت مولوی غلام رسول را جیکی نبوت پر محمدعلی مونگیری کے اعتراضات حضرت مولانا غلام رسول را جیکی علاوہ ازیں مختلف نظارتوں اور صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ میں بھی جلسہ میں اور ان کے جواب پیش کی گئیں۔الفضل 4 جنوری ۱۹۲۱) جلاس لانه مستورات اس سال بیت الاقصی میں مستورات کے لئے علیحدہ انتظام تھا۔مردانہ پنڈال میں بھی برعایت پر دہ ایک مختصر سا حصہ تھا نہیں لگا کر عورتوں کے لئے مخصوص ہندوؤں جو بڑوں وغیرہ میں تبلیغ کی حضرت چوہدری فتح محمد سیال ضرورت خاتم النبيين حضرت مولانا غلام رسول را جنگی والفضل در جنوری تا ۱۹ جنوری ۱۹۳۳م) 04