المحراب

by Other Authors

Page 38 of 207

المحراب — Page 38

حقیقت اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے ذرائع منعم علیہ گروہ کی چار اقسام قبولیت دعا کے آداب اتقوی اور وفات مسیح وغیرہ کے بارے میں بیان فرمایا۔اس جلسہ سالانہ پر بہت کم لوگ آئے اس پر حضرت اقدس نے بہت اظہار افسوس کیا۔حضور نے فرمایا ہنوز لوگ ہمارے اعراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جیسن کے لئے ہیں اللہ تعالیٰ دسوان جلسه سالانه منعقده ۲۷، ۲۸ دسمبر ۶۱۹ بمقام بیت الاقصی قادیان نے مبعوث فرمایا ہے۔وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ آکتائیں۔نیز فرمایا سیر کو بعد نماز عصر حضرت مسیح موعود نے تقریر فرمائی جس میں مامورین کی بعثت کی تعرض مامورین پر ایمان لانے والوں اور نہ ماننے والوں کے ہجو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اُس پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھتا انجام کا ذکر دین حق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے دلائل نہیشت ہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہو گا اسے ڈرنا چاہئے کہ وہ شرک میں مبتلا و دور ریخ کی حقیقت ، قرآن کریم کے فضائل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ہمارا تو اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہاں ہمارا خیال ہو جائے تو ہمارے جہات کا حضرت علی علیہ السلام پر فضیلت اوسے منبع دین حق کی تعریف بیان فرمائی نیز متکفل خدا تعالیٰ ہے۔ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں ہیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی جماعت کو نصائح فرمائیں۔راحت پہنچتی ہے " ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه ۳۹۸ تا ۴۵۵ نوان جلسه سالانه منعقده ۱۲۶ ۱۲۷ ۲۸ دسمبرمه بمقام بیت الاقصی قادیان ۲۸ دسمبر کو حضرت اقدس نے اپنی تقریر میں دابة الارض کی تشریح، سورۃ العصر کی تفسیر اور مرشد و مرید کے تعلقات کی وضاحت فرمائی اور جماعت کو نصائح فرمائیں۔۲۸ دسمبر کو ہی حضرت حکیم مولانا نور الدین نے وعظ فرمایا جس میں آپ نے سورہ جمعہ کی تفسیر بیان فرمائی۔نواب محمدعلی خاں صاحب آف الیر کوٹلہ اپنی ڈائری میں ۱۲۶ دسمبر کو تحریر فرماتے ہیں۔آج اس ندید انبوہ تھا کہ حضرت اقدس کی بات کا سننا بڑا مشکل۔اس لئے آج جو عیسائی سے تقریر کی وہ پوری سنائی نہ دی۔یہ تقریریں بڑی زبر دست تھیں۔دسمبر کو بعد از جمعہ ( جوحضرت حکیم مولانا نورالدین نے پڑھائی ) ۲۰ دسمبر کی تاریخ میں تحریر ہے۔ایک بجے جمعہ کو گیا بیت الصلواۃ حضرت مسیح موعود نے حاضرین جلسہ سے خطاب فرمایا۔جس میں حضرت اقدس میں اس قدر نبود تھا کہ با وجود اس قدر وسعت کے جگہ تھی۔۔۔۔بعد نماز عصر نے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا تذکرہ فرمایا اور بتایا تا مغرب حضرت اقدس نے تقریر کی دو گھنٹہ میں منٹ پوٹے کھڑے ہو کر تقریر کی سر محجوب الہی بننے کے لئے واحد راہ اطاعت رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے تقریر بڑی لطیف تھی اس بار حضرت مسیح موعود نے ناسازی طبع کے باعث طلبہ سے صرف ایک دفعہ خطاب فرمایا۔اس جلسہ ہیں ۵۰۰ احباب نے شرکت کی۔د کتاب۔۔۔۔احمد جلد دوئم صفحه ۵۴۹ - ۵۵۰ مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے)