المحراب

by Other Authors

Page 23 of 207

المحراب — Page 23

بساتے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور کی تھیں قرآن کریم سے پڑھوں بیت العلوان کا شہر بن گیا ہے تعلیمی ادارے، بنک، ریلوے اسٹیشن ، فضائی کمینوں گا مگر تلاوت قرآن کریم کے طور پر نہیں بلکہ دعا کے طور پر ان الفاظ کو براؤوں کے دفاتر اور بین الاقوامی مواصلات کی تمام سہولتیں یہاں موجود ہیں۔گیا اور چونکہ یہ دعائیں ہم سب مل کر کریں گے اس لیئے ہیں ان الفاظ میں کسی قدر تبدیلی کر دوں گا۔مثلاً وہ دعائیں جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے مانگی تھیں وہ تثلیہ کے صیغہ میں آتی ہیں کیونکہ اس وقت صرف حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ہی دعا کر رہے تھے مگر ہم یہاں بہت سے ہیں اس لیئے میں یہاں تثلیہ کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کروں گا۔بہر حال وہ دعائیں ہیں اب پڑھوں گا دوست میرے ساتھ ان دعاداں کو پڑھتے جائیں۔اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ میں دعائیں مانگیں ربَّنَا اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا أَمِنَّا وَارْزُقَ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ (۳ بار) اسے ہمارے رب تو اس جگہ کو ایک امن والا شہر بنا دے اور جو اس میں رہنے والے ہوں ان کو اپنے پاس سے پاکیزہ رزق عطا فرما۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمِ (۳ باد) اسے ہمارے رب ہم اس جگہ پر اس لیے بہنا چاہتے ہیں کہ ہم مل کر تیرے دین کی خدمت کریں اسے سہانے بہت تو ہماری اس قربانی اور اس ارادے کو قبول فرما۔ا سے ہمارے رہتے تو بیت ہی دعائیں سننے والا اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّ يَتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ لَكَ وَ اينا منَا سَكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيم - (۳ بار ) اسے ہمارے رب تو ہم سب کو اپنا فرمانبزار اور سینچا مسلمان بنان سے اور ہماری اولادوں کو بھی نہ صرف مسلمان بنا بلکہ ایک مضبوط امت مسلمہ بنا دے جو اس دنیا میں تیرے دین کی غلام کہلاتی ہے۔اسے ہمارے ریت جو ہمارے کرنے سے کام ہیں وہ ہم کو خود بتلاتارہ۔اندر جو ہم سے غلطیاں ہو جائیں ان سے عضو کرتا رہ۔تو بہت ہی فضل کرنیوالا مہربان ہے رَبَّنَادَ البَتْ فِيهِي جَالاً مِّنْهُمْ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَ يُعَلِّمُونَهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُرَ تُو لَهُ وَ رَتَكَ أنت العزيز الحكيم (۳ بار) اسے ہمارے رب تو ان میں ایسے آدمی پیدا کرتے رہیں جو تیری آیتیں ان کو پڑھ پڑھ کر سناتے رہیں اور تو ان کو تیری کتاب سکھا ئیں اور تیرے پاک کلام کے اعراض نہ مقاصد بتاتے رہیں اور ان کے نفوس میں پاکیزگی اور طہارت پیدا کرتے رہیں۔تو نبی غالب حکمت والا خدا ہے۔یہ عاجزانہ دعائیں حتی و قیوم خدا تعالیٰ نے سنیں اور یہ ارض مبارک با قاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ جدید شہروں کی طرز پر آباد ہوئی۔جہاں قابل استعمال پانی کا نام و نشان نہ تھا وہاں حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کی برکتوں سے پانی نکلا۔جہاں سبزہ نہ تھا اب سر سبز و شاداب ہو چکا ہے۔جو صرف سانیوں اور بچھوؤں کا مرکز تھا اب آباد ہے۔پاکستان کی شرح خواندگی کے جائزوں میں سر فہرست اور چھوٹا سا تعلیمی جزیرہ قادیان سے ہجرت کے بعد ملالہ سے اس مرکز احمدیت میں جلسہ سالانہ کا انعقاد شروع ہوا۔۲۳