المحراب

by Other Authors

Page 22 of 207

المحراب — Page 22

روه دارالہجرت دریائے چناب کے مغربی کنارے پر پہاڑیوں سے گھری یہ دا دی جو اب بین الاقوامی دنیا کی تاریخ میں ہزار ہا سال کے بعد پاکستان میں ایک ایسی نیستی بہائی گئی جس کا مقصد صرف اور صرف اعلائے کلمہ دین حق ہے یہ سیتی اتفاقاً یا ما دشتہ وجود میں نہیں آئی اس کی اہمیت کا شہر بن چکی ہے اس کا ذکرتار پیچ میں محمدبن قائم کی گزرگاہ کے طور پر آیا ہے آبادی الہی منشا کے تحت اور حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے عین مطابق منصر امری بادشاہ ولید بن عبد المالک کے نامور تبرینیل حضرت محمد بن قاسم نے سندھ شہود پر آتی ہے خدا تعال کی قدیم سے سنت ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے پھر ان اور ملمان کی فتح کے بعد اپنے لشکر کے ساتھ دریائے چناب کو عبور کیا اور کشمیر کی طرف کے صبر و استقامت کے لازوال پھل دیتا ہے اس کی یہ بھی سنت ہے کہ ایک جیسے حالات نہیں پیش قدمی کی۔ان کا گزر اس علاقے سے ہوا چنیوٹ کے ہند دراجہ سے عرب فوج کی خون ریز جنگ وہ اپنے کریمانہ سلوک کو دہراتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر حضرت اسمعیل سول بالاخر ہو مجاہدین اسلام نے شہادت کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے چنیوٹ کو فتح کر لیا چنیوٹ اور ان کی والدہ حضرت بانی کو وادی غیر ذی زرع میں خدا کے سہارے پر چھوڑ کر درد والحاج سے باہر شہیدوں کا قبرستان موجود ہے۔سے دعائیں کی تھیں ان کی دعاؤں کو خدا تعالیٰ نے سنا مکہ کو پائندہ عظمت بخشی اور اسی خوش نصیب سر زمین پر سراج منیر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔المحمدبن قاسم از ڈاکٹر عبدالحمید خان ایم اسے بھی اپنے ڈی رائل پاکستان نیوی) دریائے چناب اور اس علاقے کے درمیان پہاڑ ہونے کی وجہ سے اس کو سیراب اس دور کے ابراہیم کے بیٹے اور اس کی ماں پہ جب اپنا وطن بینگ ہو گیا تو انھیں بھی کرنا ناممکن تھا اس میں صرف ایک بوٹی لائی" اگتی تھی جواد نٹوں کا چارہ تھی اور اس بات دادی نیروی زرع نصیب ہوئی انھیں بھی نئی دنیا اور نیا آسمان دیا گیا۔کا ثبوت تھی کہ یہ زمین ناقابل کاشت ہے کئی سرمایہ داروں نے زر کثیر صرف کر کے بھی حضرت مصلح موعود نے ۱۹۳۲ء میں ایک رویا دیکھا جس میں آپ کی زبان مبارک پر کامیابی کا منہ نہ دیکھا۔ایک کروڑ پتی مہند و چندر نامی نے دریائے چناب سے آبپاشی کے لیے جاری ہوا۔دانَا الْمَسِيمُ الْمَوْعُودَ مَثْلُهُ خَلِيفَتُهُ مہر کھدوائی تاکہ اس علاقے کو آباد کر سکے مگر ناکام رہا اور اس جمعے نے اس کی جان لے لی۔قیام پاکستان کے بعد حضرت مرزا بشیرالدین محمود محمد علیه این اشانی قادیان سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لے آئے جماعت کے لیے ایک نئے مرکز سلسلہ کے لیے موزوں میں مسیح موعود اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔(تاریخ احمدیت ۱۱ص۲۹) ہم دیکھتے ہیں کر مسیح کے مثیل اور خلیفہ سے خدا تعالیٰ نے وہی سلوک کیا جو اس سے پہلے جگہ کی تلاش شروع ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام سے ہو چکا تھا ماں بیٹے حضرت مریم اور ابن مریم نے بھرت کی تو خدا تعالیٰ نے انھیں اپنی حفاظت میں لے لیا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ اللہ تعالٰی نے احمدی مہاجرین کے لیے صدیوں سے محفوظ کر رکھی تھی۔حضرت مصلح موعود نے ایک خواب میں بالکل اسی جگہ کا نظارہ دیکھا تھا چنانچہ واوينهما إلى ربوة ذَاتٍ قرار و معین (سوره مومنون آیت (۵۱) زیر انتخاب جگہوں میں سے جب اس داری کو دیکھا تو اسے پسند فرمایا اور حکومتی ضابطوں کے مطابق ۳۴ ایکڑ اراضی خرید کر حضرت مولانا جلال الدین شمس کی تجویز کرده مبارک نام ربوہ رکھنا۔ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی۔مسلم باب نزول میں میں حضرت مصل اللہ علیہ سلم کی یک پیشگوئی کرنی ہے۔حرز عِبَادِي إِلَى الطُّور ۱۹ ستمبر ۱۹۴۸ء کو لاہور سے چو ہد نہ ہی عبد السلام اختر ایم اے مولوی محمد صدیق صاحب واقف زندگی ایک مددگار کارکن ایک ڈرائیور اور دو مزدوروں پرمشتمل پہلا قافلہ چند خیمے ، شامیانے اور ضرورت کی اشیاء لے کر افتتاحی تقریب کے انتظامات کے یعنی مسیح موعود اور ان کے رفتار پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ محصور ہو جائیں گے اور لیے ربوہ پہنچا۔عد افعالی وحی فرمائے گا کہ میرے بندوں کو پہاڑ پر لے جاؤ۔اگلے دن اولو العزم فرزند مسیحائے اڑھائی سو جانثاروں کی نماز ظہر میں امیت ترمذی جلد ۲ کتاب التفسیر میں ربوہ کا معصوم درتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سکا فرمان ہے۔الفِرْدَوْسُ رَ بُوَةُ الْجَنَّةَ وَأَوْسَطُهُمَا الْفُلَهَا فردوس جنت کا اعلیٰ مقام ہے اور عین وسط میں کے ساتھ اس نامی بستی کا افتتاح فرمایا۔نماز کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا، میں اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعائیں جو مکہ مکرمہ کو PI