المحراب — Page 21
کلام حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع اية الله تعالی ( یہ کلام حضور نے کے لیے خصوصی سے طور پر عنایت فرمایا۔) گھٹا گرم کی تجوم بلا سے اُٹھی ہے گر امت ایک دل درد آشنا سے اُٹھی ہے جو آہ سجدہ صبر و رضا سے اُٹھی ہے زمین بوس تھی اس کی عطا سے اُٹھی ہے ہے ارستانی دیکھو! کہ باتیں خدا سے کرتی ہے دعا جو قلب کے تحت اشری سے اُٹھی یہ کائنات ازل سے نہ جانے کتنی خلا میں ڈوب چکی ہے۔خلا سے اُٹھی ہے دا کی رہنم ہے۔انیت کی بانگ زبوں انا کی گود میں پل کر اباء سے اُٹھی ہے۔حیا سے عاری بسته بخت نیش زن - مزدور یہ واہ واہ کسی کریکا سے اٹھی ہے خموشیوں میں گھنگنے لگی گنگ دن کی اک ایسی ہوک دلِ بے نوا سے اٹھی ہے مسیح بن کے وہی آسماں سے اُتری ہے جو انتجا۔دل ناگرا سے اُٹھی ہے۔وہ آنکھ اُٹھی تو مرے جگا گئی لاکھوں قیامت ہوگی کہ جو اس ادا سے اٹھی ہے امن ہوئی ہے وہ مجھ سے مُحمد عربی براے عشق۔جو قول بلی سے اٹھی ہے ہزار خاک سے آدم اُٹھے۔مگر جدا شبیہ وہ ! جو تیری خاک پاسے اُٹھی ہے بنا ہے مہبطِ انوار شادیاں۔دیکھو وہی صدا ہے بینوا جو سدا سے اُٹھی ہے کنارے گونج اُٹھے ہیں زمیں کے۔جاگ اُٹھو کہ ایک کروڑ ھدا۔اک صدا سے اُٹھی ہے جو دل میں بیٹھ چکی تھی۔ہوائے عیش و طرب بڑے بہن سے ہزار انتجا سے اٹھی ہے حیات کو کی تمت ہوئی تو ہے بیدار مگریہ نیند کی ماتی۔دُعا سے اُٹھی ہے