المحراب — Page 164
نہ تھی لیکن اس کے باوجود کچھ لوگوں نے بلاوجہ فرقہ دانہ فضا کو نذر کرنے کے لیے جلسوں صاحبزادہ مرزا د سیم احمد نے پڑھ کر سلایا۔اور 4 اکتوبر کی درمیانی شب مجلس خدام الاحمدی کے تحت تقریری مقابلہ کا ایک پروگرام ہوا اور » اکتوبر کی درمیانی شب نظارت دعوت در تبلیغ کے زیر انتظام کا اہتمام کہا اور فضا کو مندر کرنے کی کوشش کی نیز جلسہ سالانہ کی غلط رپورٹ پر تاب میں شائع کرادی علاوہ انہیں جلسہ کی رپورٹ (رویداد) بھی اشتعال انگیز طور پر شائع کرائی گئی۔یہ اقدامات قصبہ کے خوشگوار ماحول کو بگاڑنے کا موجب بن سکتے بیت مبارک قادیان میں ایک ترمینی جل منعقد ہوا۔ہیں۔احمد یہ جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ دوسروں کی دل آزاری نہ کی جائے اور حکومت جلسہ سالانہ مستورات میں مردانہ جلسہ گاہ سے تقاریر کے علاوہ صاحب علم خواتین نے تقاریر کیں۔، اور ۸ اکتوبر کی درمیانی راست ناصرات الاحمدیہ وقت کی وفاداری ہمیشہ پیش نظر ر ہے یہ بات بھی عیاں ہے کہ اتنی چھوٹی اقلیت اکثریت کے جذبات کو ٹھیس نہیں لگا سکتی۔اس لیے سٹی کا نگریس کمیٹی قادیان کا تقریری مقابلہ ہوا۔منعقده ۱۷ ۱۸ ۱۹ اکتوبر ۶۱۹۵۸ ایسے لوگوں کی طرف سے کی گئی اشتعال انگیزی کو پسند نہیں کرتی۔بھارت کے دور دراز علاقوں سے ۱۵۰۔احباب تشریف لائے گزشتہ سال جماعت احمدیہ ایک بین الا قوامی جماعت ہے جس کے ماننے والے تمام کی طرح اس سال بھی پاکستانی قافلے کو اجازت نہ مل سکی مشرقی افریقہ سے پانچ اجاب ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کے مرکز میں ان کو آرام اور سہولت پہنچانا چا رے تشریف لائے۔ملک اور میشن کی عزت اور شہرت کو چار چاند لگاتا ہے اور ہماری سیکولر پالیسی کا بہترین ثبوت ہے لہذا جو لوگ اس بین الاقوامی مرکز کی پرامن فضا کو خراب کرنا چاہتے بھی روزانہ اہتمام رہا۔ہیں وہ ملک کے خیر خواہ نہیں بلکہ در پردہ دشمن ہیں۔احمد یہ جلسہ سالانہ پیسہولتیں دینے سے ہماری راج نیتی کی تمام ملکوں میں تعریف ہوگی۔ہم اپنے ملک کے معززین بہی خواہوں اور سرکاری افسران سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے اثر در سورخ اور اختیارات کو کام میں لاکر ایسی شر انگیر تحرکات کو جو ہمارے امن و اتحاد کے لیے نقصان دہ ہیں روکیں گے اور فتنہ انگیز اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے عناصر کو پنپنے نہ دیں گے۔منعقده: ۱۱۲ ۱۴٫۱۳ اکتوبر ۱۹۵۶ دوران ایام جلسه نماز تهجد با جماعت اور بعد نماز فجر بیت مبارک میں درس کا بیت اقصی میں بعد نماز فجر حضرت مسیح موعود کی مکتب کا درس بھی دیا جاتا رہا۔خوانین کے جلسہ میں بیت ہالینڈ کے لئے ہنگامی چندہ جمع کیا گیا۔منعقده ۱۷۰۱۶٬۱۵ دسمبر ١٩٥٩ء برما، عدن، مشرقی افریقہ اور پاکستان سے تشریف لانے والے ۱۲۰ سے زائد احباب نے جلسہ میں شرکت کی حضرت خلیفتہ امیع الثانی کا پیغام مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب نے اور حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد کا پیغام حضرت مولانا عبد الر حمالت جٹ نے پڑھ کر سنایا۔جلسہ کی دیگر تقاریہ کے علاوہ شبینہ اجلاس میں یہ نہ بانوں میں جلہ مستورات نہیں مردوں کے پروگرام سے تقاریر سنائی گئیں۔صرف دو اجلاس حکومت ہند نے دسہرہ کے انتظامات کی وجہ سے پاکستان سے قافلہ کی آمار تقاریر ہوئیں۔مہمانان گرامی کے قیام کا مجموعی انتظام مدرسہ احمدیہ، دارا مسیح اور نفرت کی اجازت نہ دی رجلسہ سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے سے برسات شروع ہو گئی گر یہ اسکول میں کیا گیا تھا۔د بدر ۲۴ دسمبر ۱۹۵۹) قادریان ایک جزیرہ کی شکل اختیار کر گیا۔جلسہ سے ایک دن قبل ترین کی آمد ورفت روک دی گئی۔جو جاہ کے اختتام کے روز شام کو بحال ہوئی۔اہل قادیان کے لیے خواتین کے ہوئے جن میں گیارہ تقاریر ہوئیں۔خوشگوار حیرت کا سامان اس وقت ہوا جب جلسہ کے آغاز سے ایک روز قبل ہندوستان اور پاکستان سے سینکڑوں احباب کپڑوں اور سامان سمیت بھیگتے ہوئے کا ریاں پہنچ گئے۔پاکستان سے آنے والوں کی زیادہ سے زیادہ تعد ۴۴۵ اور ہندوستان سے ۱۵۳ را حباب تشریف لائے۔درویشان قاریان نے بٹالہ رُکے ہوئے افراد کو کھانا پہنچایا۔خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کا ایک اور نشان دکھایا اور مسلسل بارکش یک دم بختم گئی اور جلسہ روانینی وقار سے منعقد ہوا۔منتقده - ۸/۷/۶ اکتوبر ۱۹۵۶ ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ انڈونیشیا سے بھی بعض اجاب تشریف لائے۔حسب معمول حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا پیغام حضرت منعقده ۱۶ ۱۷ ۱۸ دسمبر ۱۹۹۶ید پاکستان سے پہینے تین سو احباب شریک ہوئے۔افریقہ اور ما ، یورپ اور بعض دیگه بیرون ممالک کے ۱۲۰۰ احمدیوں نے شرکت کی۔ہر طبقہ کے معزز علم دوست اور سنجیدہ مزاج ہندو اور سکھ دوست کثرت سے شریک ہوئے۔بعض اعلی سرکاری حکام بھی تشریف لاتے رہے۔حضرت خلیفہ آریچ الثانی اور حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔غیر احمدی عالم سیاہ غلام نبی صاحب اور ایل سی گیتا صاحب نے جماعت احمدیہ کے بارے میں نیک خیالات کا اظہانہ گیا۔سب کو قادیان میں سکھ اور ہندو بھائیوں کی طرف سے پاکستان سے آئے ہوئے