المحراب

by Other Authors

Page 163 of 207

المحراب — Page 163

تقسیم ملک کے بعد پہلا جلسہ متھا محبین میں افتتاحی اجلاس سے اختتام تک کا فرض ادا کرتے رہے۔خواتین کا جلسہ حضرت مولانا سیدمحمد سرور شاہ کے مکان سے متصل عبداللہ خان صاحب کے احاطہ میں ہوار اموائے احمدیت لہراتا رہا اور عشاق حمدیت والہانہ جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی پاسبانی منعقده: ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۲ه حضرت مولانا عبد الرحمن جٹ نے افتاحی خطاب کیا محترم چوہدری اسد اللہ خان جلسہ پرانی جلسگاہ خواتین میں ہوا اور خواتین کے لیے اس کے بالمقابل ایک مکان میں صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا پیغام پڑھ کر ستا یا۔اہل قادیان کے لیے پیغام انتظام تھا پاکستان سے ۵۱ار مرد و زن کا قافلہ چوہدری اسد اللہ عمان صاحب کی دراصل جماعت کے ہر فرد کو میتر کرنے کے لیے تھا۔اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر جلد سے جلد علماء پیدا کر و جلد سے جلد التعلیم دین کا کام اپنے ہاتھ میں لو جلد سے جلد لٹریچر پیدا کرنے اور اس کو شائع کرنے کی کوشش کرو اور تم میں سے ہر شخص اپنے عمل میں تبدیلی پیدا کرے اپنے دل میں محبت الہی پیدا کر ے اور اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد کرے۔کاش با خدا تعالی تمہارے دلوں میں ان باتوں کی عظمت اور اہمیت ڈال دے اور کاش ! اس جلسہ پر تم ایک نئے وجود بن کر جاؤ۔ملک کو روحانی دعوت دینے والے، ملک کو روحانی ترقی بخشنے والے اور پھر ساری دنیا کے لیے مفید وجود ہونے والے بن کر جاد خدا کے وعداللہ کو ساتھ لے کر جاؤ اور خدا کی مدد کو ساتھ لے کر آؤ آ ملیں اقسم آمین۔مرزا محمود احمد ۱۸ دسمبر ۱۹۵۲ خلیفہ المسیح الثانی و امام جماعت احمدیہ اربوه تاریخ احمدیت جلد ۱۵ صفحه ۳۷۴) اس جلسہ میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی کی تقریرہ ذکر جبیب سیٹھ معین الدین صاحب نے پڑھ کر سنائی۔امارت میں پہنچا۔ہندوستان بھر سے ۲،۵ را حساب شریک ہوئے۔جلسہ کی کارروائی میں تلاوت نظم کے بعد تحلیفہ ہی ان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔خواتین میں یہ پروگرام لاؤڈ سپیکر کے ذریعے سنایا گیا۔منعقده: ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۵ بھارت سے ۲۲۰ احباب اور پاکستان ۴۲ را قرار نے بصورت کا فلہ جلسہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔انفراد می طور پر بھی کم و بیش ۸۰ ا حباب تشریف لائے حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا پیغام اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا مضمون ذکر حبیب " پڑھ منایا۔خواتین کی تعداد ۴۶۰ سے زائد تھی جیں ہیں۔۲۳۰ غیر مسلم خواتین تھیں خواتین کی جلسہ گاہ مولوی عبد المغنی صاحب کے مکان سے ملحق چہار دیواری کے اندر بنائی گئی تھی۔جلسہ کے متعلق غلط پروپیگنڈا کیا گیا جس کا حکومت کی طرف سے نوٹس لیا گیا چنانچہ ایک چٹھی کی فصل اخبار بدر میں شائع کرنے کے بھیجوائی گئی۔سٹی کا نگرس کی طرف سے اخبارات کے نام چھٹی جناب پریزیڈنٹ صاحب کی کانگرس نے مندرجہ ذیل چیتی اعتبارات کے نام بھونئی جس کی ایک فقل اختیار بدر کو بھی بغرض اشاعت موصول ہوئی ہے۔ملک احسان صاحب مغربی افریقہ مولوی رستید احمد صاحب ٹرانس جارڈن، مولوی مقبول احمد صاحب انگلستان نے ان ممالک میں تعلیم دین کے لیے اپنی مساعی پر روشنی ڈالی سلیم حسن الجابی صاحب نے عربی کر کے مشکورہ فرمائیں۔میں تقریر کی۔جلسہ میں علمائے سلسلہ کی پُر مغز تقاریر تو جہ اور دلچسپی سے سنی گئیں۔منعقده : ۲۶ ۲۸٫۲۷ دسمبر ۸۱۹۵۷ شری مان ایڈیٹر صا حب بدور " جے ہنڈ مہربانی کر کے مندرجہ ذیل میٹھی شائع " تقسیم وطن کے بعد جالندھر ڈویژن میں صرف قادیان ہی ایسا قصبہ ہے جہاں ہندوؤں سکھوں کے علاوہ مسلمان بھی آباد میں قصبہ کی آبادی گیارہ ہزار سے نوائر ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد کم و بیش ساڑھے پانچ صدہ کے قریب ہو گی۔سب لوگ بھائیوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں پھر بھی کچھ ایسے ہیں جو فطرتا امن کے ماموں کو جلسہ کے لیے دہلی سے رنگین پوسٹ چھپوائے گئے جو گورداسپور دھا ر یوال بالہ پسند نہیں کرتے۔اعمال مقامی مسلمانوں نے اجوا احمدی ہیں) اپنا سالانہ جلسہ منعقار اور امرتسرمیں بھی آویزاں کیے گئے۔دہلی یو پی سی پی، مدراس، مالا بارہ حیدر آباد دکن میٹی ، جیلی، بہار، اڑیسہ اور پاکستان کے ۱۹۲ ، خوش نصیب زائرین کے قافلہ نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی معیت میں شرکت کی۔کیا۔اس موقع پر مند دوستان کے علاوہ پاکستان اور دیگر ممالک کے آدمی بھی شریک ہوئے۔جلسہ میں شمولیت کے لیے دعوت نامے جاری کیے گئے اور تین لوگوں کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے ان میں پنجاب اور اڑیسہ کے گورنروں کے علاوہ وزیر ظلم برصغیر پاک وہند کے علاوہ شام اور مشرقی افریقہ کے بعض احمدی دوست بھی پنجاب اور ان کے ساتھی اور ہائیکورٹ کے بیچ بھی شامل تھے۔ضلع کے اعلیٰ افسران شامل جلسہ ہوئے۔علاوہ ازیں معزز طبقہ کے غیر مسلم اجاب اور خواتین کی تعداد کے علاوہ بڑی بڑی شخصیتوں نے جلسہ میں شمولیت کی۔اس موقع پر جو تقریریں ہرا جلاس میں ایک ہزار سے بارہ سو کے لگ بھگ رہی۔ہوئیں وہ اگر چه روحانیت اور استحاد پر مبنی تھیں ظاہر ہے کہ کسی کی دل آزاری مقصود