المحراب

by Other Authors

Page 162 of 207

المحراب — Page 162

میری جسمانی اور روحانی اولاد کا بھی اس میں وافر حصہ ہو یا اتم خود رتن باغ لاہور ، ۱۸ دسمبر ۱۹۲ - اس جلسہ سر علمائے سلسلہ کی پندرہ تقریریں ہوئیں محترم حکیم فضل الرحمن تعاب افریقہ) اور محترم صوفی مطیع الرحمن صاحب (امریکہ) نے بھی مختصر تقاریر کیں۔مجلسہ کے ایام کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت وہ دعائیں ، نمازیں اور عباد میں تھیں جو دارالمسیح کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں سے معمور رکھتی تھیں۔بیت مبارک ابیت اقصی، دار صحیح خصوصا بیت اللدعاء بیت الذکر اور بیت الفکر خشوع و خضوع سے نکلی ہوئی دعاؤں اور مناجاتوں کی آماجگاہ بنی رہیں علاوہ ازیں صبح پانچ بجے بموت الصلواۃ میں باجماعت نماز تہجد ادا کی جاتی میں میں احباب بڑے ذوق وشوق سے حصہ لیتے تھے بہشتی مقبرہ میں مزار حضرت مسیح موعود پر حاضر ہو کہ دعا کرنے والوں کا بھی تانتا بندھا رہتا۔حضرت مولانا غلام رسول را جیکی کے پر اثر خطابات حاضرین جلسہ کے لینت منعقده: ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۲۱۹۲۹ جلسہ میں قریباً ایک ہزار افراد نے شرکت کی تقسیم ہند کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اللہ ہائی سال کے بعد ۵۶ - پاکستانی احمد می شامل ہوئے۔زائرین میں پاکستان کے ثابت ہوئے۔ریقی ہائی کمشنر مقیم جالندھر میجر جنرل راجہ عبدالرحمن صاحب کا نام قابل ذکر ہے جلسہ میں ۱۳۸ ہندوستانی احمدی تشریف لائے جن میں چار مستورات اور پانچ بچے بھی شامل تھے۔حضرت مولوی عبد الرحمن بوٹ امیر جماعت قادریان نے اپنی افتتاحی تقریر میں بعض مصور احمدی اکابر کے پیغامات اور دنیا بھر کے احمدی مشنوں سے مراسلات سنائے۔ازاں بعد پاکستانی قافلہ کے امیر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے صدارتی تقریر میں تایا کہ حضرت خلیفہ انبیع الثانی نے دیگر بابرکت ارشادات کے علاوہ مجھے یہ پیغام پہنچانے کے لیے فرمایا تھا کہ اپنے رب پر بھروسہ رکھو اس کی کامل اطاعت کرد اس پر کامل یقین اور اس کی کامل اطاعت کے ساتھ دنیا میں امن قائم ہو سکے گا یا علمائے سلسلہ کی تقاریر کے علاوہ مکرم سیخ مبارک احمد صاحب اور مکرم مولوسی محمد صدیق صاحب امرتسری نے افریقہ میں تبلیغ دین سے کے موضوع پر اظہار خیال فرمایا۔اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خصوصی نامہ نگار نے اس جلسہ کی مفصل رو داد لکھی جو اس اخبار کی ۲۹ دسمبر ۱۹۳۹ ء کی اشاعت میں شائع ہوئی۔( تاریخ احمدیت جلد ۱۴) منعقده: ۲۶ ۲۸۰۲۷ دسمبر ۱۹۵۰ جلسہ میں ۳۵۰ مقامی در دیش اور پاکستان سے ، 9 افراد شریک ہوئے۔منعقده: ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۷ ہندوستان بھر کی جماعتوں کے علاوہ پاکستانی زائرین کا قافلہ بھی جلسہ میں شمولیت کے لیے قادیان پہنچا جلسہ سے مہندستان کے علاوہ انگلستان انڈر خیشیا اور ہالینڈ کے بعض احمدی احباب نے بھی خطاب فرمایا زنانہ جلسہ گاہ کے طور پر حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کا مکان استعمال کیا گیا، جہاں آلہ جبر الصوت کے ذریعے مردانہ جلسہ گاہ کی تمام کا روائی سنی گئی۔۲۹ دسمبر کو ، خواتین کا علیحدہ اجلاس بھی معتقد ہوا غیر مسلم خواتین کی تعداد تیں تھی خواتین میں سے محترمہ امتد السلام صاحبہ المیہ محمد یونس صاحب اسلم اور سیار که تمر صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب اور صد بر لجنہ اماء الله قا دریان نے تقاریر کیں۔پاکستانی زائرین کا قافلہ شیخ بشیر احمد صا حب ایڈوکیٹ لاہور کی امارت میں قادیان پہنچا۔قادیان کے درویشوں کے لیے اور قادیان کے لیے ترستے ہوئے مہمانوں کے لیے جلسہ سالانہ پر قادیان میں اجتماع نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔سوز و گداز سے انقطاع الی اللہ کے نظارے دیکھنے میں آئے۔منتقده: ۲۶ ۲۸۰۲۷ دسمبر ۱۹۵۷ حاضری ۲۰۰۰ سے زائد۔دو سو پاکستانی افراد کا قافلہ پانچ لاس یوں پر ۲۶٫۲۵؍ دسمبر کی درمیانی شب اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف علاقوں مثلاً حیدر آباد بمبئی ، بہار، یوپی، بنگال قادریان پہنچا، در دیشان قادیان نے محلہ ناصر آبا کی شرک پر اهلا و سهلا و مرحبا اور کشمیر سے ، ۲۵ احمدی احباب نے شرکت کیا۔۲۷ دسمبر کے دوسرے اجلاس میں کے نعروں سے استقبال کیا۔نو سو کے قریب غیر مسلم حضرات موجود تھے ، شہر کے ہندو معززین کے علاوہ حکومت غیر مسلم معزرین اور سکھ احباب جلسہ کے ہر اجلاس میں ہزار بارہ سو کی تعداد میں کے بعض اعلیٰ عہدے دار بھی شریک ہوئے۔پروفیسر عبد الحمید صاحب سابق سفیر حکومت شریک ہوتے ہے۔برصغیر کے علاوہ شام اور مشرقی افریقہ سے بھی مہمان آئے۔ہند متعینہ جدہ بھی تینوں دن جلسہ میں شامل ہوتے رہے۔جلسہ کے لیے دہلی سے رنگیں پوسٹ طبع کروائے گئے جو قادیان کے علاوہ خواتین کے لیے دھر مولاناسیدمحمدسرور شاہ کے مکان میں جلسہ منے کا نظام تھا۔گورداسپورا دھاریوال، بٹالہ اور امر تسر میں آویزاں کیے گئے۔لاؤڈ سپیکر خریدا گیا اور دسمبر کی رات کو بیت اقلی میں محترم شیخ بشیراحمد ایڈوکیٹ لاہور کی صدارت جس کا انتظام محمد اسلمی صاحب جنگلی کے سپرد رہا۔اس سے پہلے کرائے کے لاڈڈا سپیکر میں ایک تربیتی جلسہ ہوا۔استعمال کیے جاتے تھے )