المحراب

by Other Authors

Page 161 of 207

المحراب — Page 161

عهد درویشی کا پہلا جلب سالانه روداد قادیان حضرت سیدنا مسیح موعود نے موبر دسمبر ستاد کو خواب میں دیکھا تھا کہ میں کسی اور جگہ ہوں اور قادیان کی طرف آنا چاہتا ہوں ایک دو آدمی ساتھ ہیں کسی نے کھا راستہ بند ہے۔ایک محرف نما ر چل رہا ہے میں نے دیکھا کہ واقع میں کوئی دریا نہیں بلکہ ایک بڑا سمندر ہے اوپر پیچی ہو ہو کر میں رہا ہے جیسے سانپ چلا کرتا ہے ہم نہ اپس چلے آئے ہیں کہ ابھی راستہ نہیں اور پیرا بڑا خوفناک ہے کیا البدر در جنوری یہ ذو الوجود اور معنی تعبیر رویا، اگر چه سید نا حضرت مصلح موعود کی ہجرت پاکستان سے بھی پوری ہو چکی تھی مگر اس کی عملی تعبیر کا ایک نہایت تلخ و روح فرسا پہلو پہلی ابر مبر ۱۹۴۷ کے آخری بہتر نہیں یہ سامنے آیا کہ امن پسندی اور حکومت وقت کی اطاعت و وفاداری میں مشہور جماعت، جماعت احمد یہ اپنے مقدس مرکز سے باہر لا ہور میں جلسہ کرنے پر مجبور ہوئی ا در حضرت مصلح موعور جو اس مقصد میں تقریب کے حقیقی معنوں میں سورج رواں تھے اس وجہ سے قادیان کے سالانہ جلسہ میں رونق افروز نہ ہو سکے کہ قادیان کے رستہ میں ملکی اور سب اسی مشکلات اور پیچیدگیوں کا ایک خوفناک سمند ر حائل ہو چکا تھا قبل از کیا اس تقریب پر شمع احمدیت کے ہزارہ میں پروانے بر صغیر کے چاروں اطراف سے پہنچ جاتے تھے اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھاتے تھے مگریہ کے سالانہ جلسہ قادیان میں پاکستان بلکہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے بھی کوئی احمدی شامل جلسہ نہ ہو سکا جو سلسلہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا الم انگیز سانحہ تقهاء ( تاریخ احمدیت جلدا از من ۴۳) منتقده: ۲۸۲۷۲۶ دسمبر ۱۹۴۷ء یہ جلسہ بیت اتصلی میں ہواہ جلسہ میں ۲۵۳ در دینی اور ۶۲ غیر مسلم حضرات نے شرکت کی مجلس کی کاروانی سننے والی احمدی خواتین صرف تین نھیں چار غیر احمدی خواتین اور ایک نھی بچی نے بھی پر وہ کے پیچھے اجو بر آمدہ بہت کے شمالی حصہ میں سیڑھیوں کے ساتھ نصب کیا گیا تھا) سے جلسہ کی کارروائی سنی۔جلسہ کا مستیج بہت کے شمالی حصہ میں بنچوں پر بنایا گیا تھا جس کا رخ جنوب کی طرف تھا اور اس پر حضرت مولوی عبدالرحمن جیٹ اور صاحبزادہ مرزا ظفر احمد تشریف فرما تھے جلسہ کا پروگرام صاحبزادہ مرزا خلیل احمد ناظر دعوت و تبلیغ قادربان نے مرتب کیا مختلہ جلسہ کا سارا پر وگرام نهایت در در دالحاح تضرع اور انتہال سے پتہ تھا۔ہر نصیب زخمی دلوں سے لکھنے والی دعائیں عرش ہلاتی رہیں۔اس جاب پر حضرت مصلح موعود کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس نے قبلہ حاضرین کے کرب والم اور محرومی کے احساس کو فزوں ترکیہ رہا۔حضرت خلیفتہ ایسے الانی کا پیغام حضرت مولوی عبد الرحمن جٹ نے پڑھ کر سنایا۔حضور نے فرمایا۔میں آسمان پر خدا تعالیٰ کی انگلی کو احمدیت کی فتح کی خوشخبری لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں جو فیصلہ آسمان پر مو زمین سے رد نہیں کر سکتی اور خدا کے حکم کو انسان بدل نہیں سکتا۔سوئستی پاڈا در خوش ہو جاؤ، اور دعاؤں اور روزوں اور انکساری پر زور دھو اور بنی نوع انسان کی ہمدردی اپنے دلوں میں پیدا کر دو منعقده: ۲۸٫۲۷۲۶ دسمبر ۱۹۴۷ئه جلسہ میں قادیان کے درویشوں اور غیر مسلموں کے علاوہ ہندوستان کے دوسروں علاقوں سے ۱۶۶ حباب تشریف لائے تھے جن میں ایک غیر مبائع اور پانچ غیر از جماعت بھی شامل تھے۔جلسہ پر حاضری زیادہ سے زیادہ ۶۰۰ ار رہی ان میں احمدی احباب ۳۵۰ تھے۔۲۷ - دسمبر کو افراد پرشتی مختصر سا بچھڑے ہوئے احباب کا قافلہ قادیان پہنچا۔اس جلسہ پر حضرت مصلح موعود حضرت انتان جان اور حضرت صاحی زاده نار بشیر احمد کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی نظم خوشا نصیب کہ تم مقادیان میں رہتے ہو پڑھی گئی تو دل کا در دن تھمنے والے آنسو بن کر یہ نکلا۔حضرت اماں جان نے پیغام بھیجا تھا۔میں ان میں بیاہی جا کر قادیان میں آئی اور پھر خدا کی مشیت کے ماتحت مجھے 1954ء میں قادیان سے باہر آنا پڑا۔اب میری عمر استنی نه سال سے اوپر ہے اور میں نہیں کر سکتی کہ خلافی تقدیر کا آئیندہ کیا مقدر ہے مگر ہر حال میں خدا کی نقلہ یہ پیر راضی ہوں۔۔۔چند دن سے مجھے قادیان خاص طور پہ زیادہ یاد آرہا ہے شاید اس میں جلسہ سالانہ کی آمد آمد کی یاد کا پر تو ہو یا آپ لوگوں کی اسی دلی خواہش کا مخفی اثر ہو کہ میں آپ کے لیے اس موقع پر کوئی پیغام لکھ کر بھجواؤں میری سب سے بڑی تمنا ہی ہے کہ جماعت امیان و اخلاص اور قربانی اور مکمل صالح میں ترقی کرے اور حضرت مسیح موعود کی خواہش اور دعا کے مطابق