المحراب

by Other Authors

Page 160 of 207

المحراب — Page 160

زمانہ جتنے ستم چاہے توڑے ثاقب دلوں سے عشق محمد نہیں ہے جانے کا ایک شعر یوں تھا۔ہر التجا سے پہلے ہر اک التجا کے بعد پڑی ہے دھوم زمانے میں حسن یوسف کی وہ عکس تیر کے ہی سائے کا ہو ہو ہو گا حضور نے نعت دیکھی اور اس پر معمول کی ایک نظر دوڑانے کے بعد مجھے آتا ہے لب پر نام محمد خدا کے بعد لوٹادی یہ فرما کہ کہ ہاں پڑھ دیں اس کے بعد کوئی آدھ گھنٹے تک یہ سلام خدمت ہے ذات حق حضور کی صورت میں جلوہ گر میں حاضر رہا۔بالا تر جب رخصت ہونے لگا تو فرمایا۔" وہ حسنِ یوسف والا کیا شعر آئینے سب ہیں مان رخ مصطفے کے بعد تھا ؟ میں نے پڑھا تو بڑ سے ہی کر پیمانہ لب ولہجے میں فرمایا ہے کون بدنصیب جو باندھے گا غیر سے عہد وفا حضور سے عہد وفا کے بعد یارب مجھے بنا دے در مصطفے کی خاک حضرت یوسف کی نبوت تو واقعی نبوت تھی عکس نبوت کو نہ تھی میں نے قور اعرض کیا حضور یہ شعر نہیں پڑھوں گا۔فرمایا " ہاں نہ پڑھیں ؟ اس کے ساتھ ہی مجھ پر یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ نگاہ خلافت کی قدر عید اشعار مانگوں گا اب نہ کوئی دعا اس دعا کے بعد میں ضمیر بنیادی مفاہیم کو پا جاتی ہے۔جس کے بعد میرادل اپنی اس تفکری لغزش پر ثاقب یہ ہو حضور ا کبھی وہ عطائے خاص رہتی نہیں ہے کوئی حلب میں عطا کے بعد جمال مہر و وفا کے تھے۔کمال صدق وصفا کی باتیں جو ہو سکے تو سُنائے جاؤں تمہیں حبیب خدا کی باتیں دہی میں اول رہی ہیں آخر وہی ہیں ظاہر رہی ہیں باطن رہیں گی تا حشراب زبانوں پہ خاتم الانبیاء کی باتیں میں دائی دین مصطفے ہوں خدائی دین مجتبی ہوں دڈرا سکیں گی نہ میرے دل کو کبھی سزا و جزا کی باتیں قدم قدم اُن کی رہنمائی جہاں جہاں اُن کی روشنائی فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اب تک سکوت غار حراکی باتیں میری مگن اُن کا آستاں ہے یہی تڑپ تو متاع جاں ہے کبھی تو ہوں گی شفیع محشر سے ثاقب کے نوا کی بانہیں نگاه خلافت خلافت ثالثہ کے دور میں جماعت کی مخالفت زیادہ ہونے لگی تھی۔اور زبان و فلم پر قدغنوں میں آئے دن اضافہ ہوتا رہتا تھا۔میرا معمول تھا کہ جلسہ میں پڑھی جانے دانی نظم ہو یا قوت میں کسی نہ کسی رنگ میں حضور کو دکھا ضرور دیتا تھا حضور کا غذ میرے ہاتھ سے لینے رواروی میں اس پر ایک سرسری نگاہ دوڑاتے اور کاغذ مجھے واپس دے دیتے جس پر مجھے یہ وہم سا تھا کہ شاید حضور صرف حسن علنی بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پڑھتے نہیں جبکہ میرے دکھانے کا مقصد تو یہ تھا کہ چونکہ مجھے یہ اشعار حضور کی موجودگی میں پڑھنے ہیں اس لئے ان کی ذمہ داری حضور پر بھی اسکتی ہے۔اسی طرح ایک سال میں نے اپنی ایک نعت حضور کی خدمت میں مطالعہ و ملاحظہ کے لئے پیش کی جس کا دیرهنگ استغفار کرتا رہا ۲۰۱