المحراب — Page 130
آج نہیں تو کل دیکھو گے گر تو نہیں دیکھو گے تو تمہاری نہیں لکھی گئی اگر کل تمہاری نہیں نہیں کھیں تو ہوں ایک نہیں کہیں گی مگر ان کے من کی ہاں میں کے لئے استمداد کریں توان کے ملک کا انتظام نیابت خلاف رومانی ارا کی تقریر کی تری ہیں جنہیں دنیامیںکوئی کمی نہیں سکتا۔آپ وہ مزدور ہیں کر سکتی ہے۔مگر ایسے انتظام کو کم سے کم عرصہ تک محدود رکھا جانا جنہوں نے دینی ای امیر کریمیں بنی افلام معدہ کی بتا دیں تو ولی جا چکی ضروری ہوگا۔( احمدیت منه ۲۰۶ ) ہیں۔آسمان پر پڑ چکی ہیں۔ان کی عمارتوں کو آپ نے بلند کرتا ہے۔جناب الہی کی طرف سے ہمارے پیالے امام سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع پس آن دو مقدس مزدوروں کو کبھی دل سے محو نہ کرنا جن کا نام ابر ایم کو اپنے عہد خلافت کے آغاز ہی میں بتا دیا گیا ، کہ دنیا کے موجودہ نظاموں اور ازموں اور اسمائیل تھا اور ہمیشہ یاد رکھتا اور اپنی نسلوں کو نصیحتیں کرتے پہلے کی عباط عنقریب الٹنے والی ہے اور ان کی جگہ قرآن مجیب کا پیش فرمودہ نقشہ کھر نے جانا کہ اسے خدا کی راہ کے مزدورو! اس نقومی اور سچائی اور خلوص کے والا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔لباط دنیا الٹ رہی ہے نیں اور پائیدار نفتے جہاں نو کے ابھر رہے ہیں۔بدل رہا ہے نظام کہتا کلید فتح و ظفر تھمائی تمہیں خدا نے اب آسماں پر نشان فتح و ظفر ہے لکھا گیا تمہارے ہی نام کہنا ساتھ، اسی توحید کے ساتھ وابستہ ہو کر اسے اپنے رگ دیلے ہیں سرایت کرتے ہوئے تم اس عظیم الشان تعمیر کے کام کو جاری رکھو گئے ایک صدی بھی جاری رکھو گے، اگلی صدی بھی جاری رکھو گئے۔یہاں تک کہ یہ عمارت پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔اس عمارت کی تکمیل کا سہرا نیس کی بنیا د حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالی تھی جن اسی سلور میں حضرت خلیفہ ایسے راجہ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ ہی عالمگیر جماعت کے ساتھ اُن کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے مزدوری کی تھی۔خدا احمدیہ کو مخاطب کرتے ہوئے جدیدا در قرآنی یو این او کی تعمیر کے لئے خصوصی تحریک کی تقدیر میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم فرمائی۔جو حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔ی نظام کہنہ مٹایا جائے گا۔آپ یا درکھیں اور اس بات پر کے سر پر باندھا جا چکا ہے۔کوئی نہیں ہے جو اس تقدیر کو بدل سکے ہم تو مرد در ہیں مجھے مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قدموں قائم رہیں اور کبھی حل نہ ہونے دیں۔یہ اقوام قدیم جن کو آج اقوام متحدہ کے غلام۔آپ کے خاک پا کے غلام ہیں۔“ کہا جاتا ہے ان کے اطوار زندہ رہنے کے نہیں ہیں۔یہ تو میں یادگار مین جائیں گی۔اور عبرت ناک یاد گار بن جائیں گی اور ان کے کھنڈرات سے آپ ہیں۔اسے توحید کے پرستار و بادہ آپ ہیں جو نئی عمار نہیں تعمیر کریں گے نئی اقوام متحدہ کی عظیم الشان فلک بوس عمارت میں تعمیر کرنے والے تم ہو۔۔۔۔جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے، تم دیکھو گے افضل ۴ مارچ ه مد) مٹا کے نقش و نگار دیں کو یونہی ہے خوش دشمن حقیقت جو پھر کبھی بھی نہ مٹ سکے گا۔اب اب نقشہ بنائیں گے ہم ٹا کے کفر و ضلال و بدعت کریں گئے آثار دیں کو تازہ خدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے ریم اڑائیں گے ہم