المحراب — Page 84
تبه خللی جلسه سالانه به موقع مجلس مشاورت ۱۹۳۰ه منتقده : ۲۸ مارچ ۶۱۹۴۰ بمقام: جود عامل بلڈ نگ لاہور یه خود نکہ نفلی جلسہ پر ستورات اور بچوں کو بوجہ حالات شریک ہونے کی ممانعت کردی کوائف مغربی افریقہ میں تبلیغ۔ایف آر تحکیم صاحب مبلغ افریقہ جل مستورات خواتین کے لیے مردانہ ملک گاہ سے پروگرام لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ سنایا گیا۔۱۹۴۸ پاکستان میں نئے عالمی مرکز سلسلہ احمدیہ نہ بیوہ کی بنیاد حضرت مصلح موعود خلیفہ گئی تھی اس لیے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اعلان فرمایا کہ مجلس مشاورت شاہ کے المسیح الثانی نے بر ستمبر ۱۹۴۸ د کور کبھی اور سنت ابرا ہیمی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اق ورق ساتھ ایک دن بڑھا دیا جائے تادہ عورتیں اور بیچتے جو گزشتہ موقع پر نہیں آسکے اس موقع صحرا کو خدائے واحد و یگانہ کی توحید کو تمام دنیا میں پھیلانے والے مرکز میں تبدیل کرنے کی سے فائدہ اٹھا سکیں۔مجلس مشاورت کے اگلے روز لینی ۲۸ مارین شاہ کو سالانہ جلسہ کا تنمر پہ گرام شروع ہوا اس موقع پر ہزاروں احباب مختلف مقامات سے حاضر ہوئے تھے۔داغ بیل ڈالی۔چونکہ نئے مرکز سلسلہ نہیں، آب و دانہ کی مشکلات کے باعث فوری طور پر وہاں مرکزی جلسہ سالانہ منعقد کرنا ممکن نہ مقالہذا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فیصلہ فرمایا کہ اس بار حضور نے صبح افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ اجتماع وہی بابرکت ہوتے ہیں جو نیک ارادوں مرکزی مجلسہ سالانہ برائے دسمبر کی تعطیلات کے الیسٹر (اپریل) ۱۹۴۹ء کی تعطیلات میں منعقد کیا جائے گا۔کے ساتھ شروع کیے جائیں۔ہمارے سامنے دو ارب نفوس کے قلوب کو فتح کرنا ہے۔پس محض جیسے جلوسوں اور اجتماعوں پر اکتفا نہ کرنا چاہیے بلکہ مومنانہ جوش اور اخلاص کے ساتھ جلسہ سالانہ کی مقررہ تار بنچوں پر ۲۵ ۲۶ دسمبر شام کو جماعت احمدیہ لاہور دین کی خدمت تبلیغ اور اشاعت حق کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔نیز فرمایا کہ آسمانی تقدیرہ کے نے اپنا سالانہ جلسہ منعقد کیا۔میں میں حضور نے بھی شرکت فرمائی۔اس جلسہ میں ظہور کے لیے زمینی جد وجہد بھی ضروری ہے ہر ایک کی میں خواہش ہونی چاہیے کہ دنیا قریباً ۷۰۰۰ار احباب جماعت نے شرکت کی۔سے گورنر جنرل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور دنیا پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ اپنے افتتاحی اجلاس میں حضور نے جماعت کو عملی نمونہ پیش کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔وسلم کی حکومت قائم ہو۔۲۸ مارچ کو اپنے دوسرے خطاب میں اصل موضوع شروع کر نے سے قبل جب تک ہم عملی نمونہ پیش نہ کریں ہم غلبہ نہیں پا سکتے۔پس یہ وہ حضور نے چند متفرق امور بیان فرمائے پھر اپنی تقریر سیرید و حالی کے سلسلہ کی پو مٹھی کڑی دروازہ ہے جس سے گزر کر ہم اپنے مقصد کو پالیتے ہیں اور دین حق ناقد کے یعنی " عالم روحانی کا بلند ترین معیار یا مقام محمدیت پر روشنی ڈالی۔حضور نے فرمایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایک عظیم الشان مینار ہے جو قیامت تک روشنی دیتا چلا جائے گا۔قادیان کا مینار در اصل تصویری زبان میں ہمارا یہ اقرار ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج سے سہانے مہمان ہیں اور آپ کے لیے ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔کہ یڈیو پاکستان پر بھی اس جلسہ کا اعلان کیا گیا۔حضرت اقدس کی تقریر کے دوران پر یس گیلری بھی بھری ہوئی تھی۔اس جلسہ میں علمائے سلسلہ کی درج ذیل تقاریر ہوئیں۔اسلامی نظام حکومت۔کوائف تبلیغ امریکہ میں۔پروفیسر محمد اسلم صاحب صوفی ایم آرینگالی صاحب مبلغ امریکہ۔غلبہ کی عمارت میں داخل ہو سکتے ہیں۔جہاں بیگ ہمارے سے مقصد کا تعلق ہے وہ واضح ہے کہ قرآن کریم میں ہمارا فریضہ وی حق ( ناقل کو دو سرے ادیان پر غالب کرنے میں کوشاں رہنا بیان فرمایا ہے لیکن جہاں تک عمل کا سوال ہے اس میں ہم تہی دست ہیں یہ ور دسمبر کو دور سے اور اختتامی اجلاس میں حضور نے خطاب کرتے ہوئے " ی قطعی اور یقینی بات ہے کہ اب دین حق انا قل کے غالب ہونے اور کفر کے مغلوب ہونے کی باری ہے۔مالی قربانی کی طرح جانی قربانی کے میدان میں بھی ہمیں عدیم النظیر نمونہ پیش کرنا چاہیے۔نیز حضور نے اعلان فرمایا کہ یہ صرف لاہور کی تیما صحت کا جلسہ سالانہ ہے۔جماعت