المحراب

by Other Authors

Page 83 of 207

المحراب — Page 83

حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے خدائی تحریک کی بنا پر ۱۲ دسمبر ۱۹۴۶ء کے خطبہ قعہ میں اعلان فرمایا کہ اور سیمیہ کو نمایندگان جماعت کی مشاورت ہوگی اور ۲۰۱۶۷ دسمبر کولاہور میں جماعت احمدیہ کی اعلی جلسہ سالانہ ہوگا۔۵۶ چھین واں جلسہ سالانہ منعقده: ۲۷ ۱۲۷ ۲۸ دسمبر۴۱۹۲۷ بهتظام :- میدان متصل رتن باغ لاہور جام ، دسمبر کو حسب پر دو گرام مجلس مشاورت منعقد ہوئی۔ور دسمبر کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی استیج پر رونق افروز ہونے اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج کا جلسہ غیر معمولی حالات میں منعقد ہورہا ہے گزشتہ سال قادیان میں جلسہ کے موقع پر کوئی احمدی یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اگلے جلسہ کے موقع پر ہم اپنے مرکزہ سے محروم ہوں گے اور ہمیں کسی اور جگہ پر اپنا جلسہ کرنا پڑے گا۔جگہوں کے لحاظ سے تو ساری جگہیں ایک کی حیثیت رکھتی ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لیسے ساری زمینیں سجدہ گاہ بنادی گئی ہیں اگر ہر جگہ ہی خدا کی سجدہ گاہ بن سکتی ہے تو وہ مومن کے لیے جلسہ گاہ بھی بن سکتی ہے۔لیکن بہترال عادتیں تعلقات اور محبتیں ضرور قلب پر اثر ڈالنے والی چیزیں ہیں۔ہم قادیان نہیں جا سکتے۔گو آج ہم اس سے محروم کر دیے گئے ہیں لیکن ہمارا ایمان اور سہارا یقین ہمیں بار بار یہ کہتا ہے کہ قادیان ہمارا ہے۔وہ احمدیت کا مرکز ہے اور ہمیشہ احمدیت کا مرکز رہے گا انشاء اللہ) حکومت خواہ بڑی ہو یا چھوٹی بلکہ حکومتوں کا کوئی مجموعہ بھی نہیں مستقل طور پر قادیان سے محروم نہیں کر سکتا۔اگر زمین ہمیں قادیان لے کر نہ دے گی تو ہمارے خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور دہ ہمیں قادیان سے کر دیں گے۔ہم مذہبی لوگ ہیں حکومتوں نے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہمارا کام دلوں کو فتح کرتا ہے نہ کہ زمینوں کو ایا ۲۷ دسمبر کو دوسرے اجلاس میں خطاب کرتے موٹے حضور نے حالات حاضرہ کا تذکرہ فرمایا۔اگر یہ صحیح ہے کہ دین حق ( ناقل) خدارا کا مذہب ہے اور اگر یہ دوست ہے کہ یہ سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخر می نہیں ہیں جن کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی اور جن کے بعد کوئی ایسا حاکم نہیں آسکتا جو آپ کے کسی حکم کو بدلے اور اگر یہ صحیح ہے کہ آپ کی بادشاہت قیامت ایک ہماری ہے۔تو پھر اے ہما ہمیں مائنا پیڑ سے گا کہ دین حق انا قل کی ترقی اور تنزل میں خدا کا ہاتھ ہے اور یہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں۔بہر حال اس میں خدائی طرف سے کوئی نہ کوئی پہلو بھلائی کا ضرور معنی ہوگا۔نہیں اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور دین حق و ناقل خدا کا منہ سب ہے تو ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ یہ تکلیف نہیں بیدار کرنے کے لیے ہی گئی ہے نہ کہ تباہ کرنے کے لیے ! ۲ دسمبر کو حضور نے اپنی مختصر تقریر میں متفرق مسائل پر روشنی ڈالنے کے بعد سنات پر بلال انداز میں فرمایا۔ہم نے پھر دین حق رنا قل) کا جھنڈا دنیا کے نام ممالک میں لہرانا ہے ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عزت و آبرو کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔ہم نے دین حق انا قل) کو اس کی پرانی شوکت پر قائم کرنا ہے۔" آخر میں حضور نے فرمایا۔قادیان چھوٹ جانے پر بعض لوگوں نے نہایت جزع فزع کیا ہے اور آنسو بہاتے ہیں لیکن میں اسے بے غیرتی سمجھتا ہوں یہ رونے کا وقت نہیں ہے بلکہ کام کرنے کا وقت ہے میرا آنسو قادیان کے لیے اس دن بہے گا جب میرا دوسرا آنسو اس خوشی میں سے گا کہ میں قادیان میں فاتحانہ داخل ہو رہا ہوں بعد بات بے ٹھیک کام کی تکمیل ہیں محمد ہوتے ہیں لیکن ہمیں اپنے جذبات اس دن کے وقف رکھنے چاہئیں جب ہم قادیان کے لیے نکلیں " اس جلسہ میں ہونے والی دیگر تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت مفتی محمد صادق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ بی این مولوی محمد سلیم صاحب فاضل انشورنس اور بیکنگ کے متعلق اسلامی نظریہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد انا جیل کی حیثیت قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری حضرت میسج کے سفر کشمیر کا اثر عیسائی دنیا پہ حضرت مولانا جلال الدین شمس ذکر حبیب AY