المحراب — Page 51
دیر کا حیلہ انفلوئنزا کی عالمگیر و با کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔تائیسواں جا لانہ منعقده ۱۷۱۱۹۱۵ مارچ ۱۹ بمقام بيت النور قادیان دو کر دن کی تقریر میں حضور نے پہلے مختلف نظارتوں اور ان کے کاموں کا ذکر کیا پھر اہل پیغام کی سازشوں اور ان کو دیے جانے والے چیلینجوں کا ذکر کی ساتھ ہی جماعت کو اپنا پیغام عام کرنے کی طرف توجہ دلائی حضور کی ان بصیرت افروز تقریر وں کے علاوہ جلسہ میں درج ذیل تقاریر ہوئیں۔حضرت مسیح موعود کے معجزات اور نشانات حضرت حکیم خلیل احمد مونگیری صداقت حضرت مسیح موعود حضرت حافظ روشن علی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین رپورٹ صد را انجمن احمد بیه حضرت مولانا شیر علی نے جو محکمہ جات قطارت کے ناظم اعلیٰ تھے ان محکموں کے قیام کے بواعث اور ضروریات کا ذکر کیا اور مختلف تنظر توں کی رپوریشس پیش کی گئیں۔پروگرام کے مطابق مجلس کا آغاز بعد دوپہر ہونا تھا ایک اجتماع کثیر کا دن شوق دیکھ کر مسیح کو بیت الاقصی میں ایک اجلاس کیا گیا جس میں مولوی محمد محفوظ الحق صاحب نے جمع قرآن اپنے قبول احمدیت کے بارے میں تقریر کی۔جلسہ کی با ضابط کار روائی نماز ظہر کے بعد شروع ہوئی اس جلسہ کی صدارت حضرت عبداللہ الہ دین نے کی ( الفصل مارپت سالاد) ایام جدہ سے قبل حضرت خلیفہ المسیح الثانی بیمار ہو گئے تھے جس کا اثر باقی موضوع پر کی جانے والی اس تقریر میں آپ نے ہرقسم کی علی استعداد رکھنے والوں کے حضرت پور بدی فتح محمد سیال حضرت مسیح نے مسلمانوں پر کیا احسانات حضرت مولوی غلام رسول را میکی گئے۔مسئلہ نبوت حضرت حافظ روشن علی حضرت حافظ روشن علی کی تقریر کے بعد ایک گھنٹہ ایک غیر سائین کی درخواست پر ان کے مقدر میر بہ شاہ صاحب کو حافظ صاحب کے دلائل کو تھا مشتاق زیارت مهمانان طلبہ کی خاطر آپ نے اپنی بیماری کی پرواہ زکر تے ہوئے توڑنے کی اجازت دی گئی مگر در رست و صاحب نے حافظ صاحب کے دلائل کو جلسہ میں تقاریہ فرمائیں۔حسب معمول پہلی تقریر کا موضوع علمی تھا“ عرفان الہی کے چھوا بھی نہیں اور کچھ اور ہی تقریر شروع کر دی۔ہر شخص پر ان کے بیان کی نامعقویت ظاہر ہورہی تھی۔ان کی تقریر کے بعد صدر تحلیس حضرت میر محمد اسحاق نے مدثر شاہ کی باتوں کی وہ دھجیاں اڑائیں کہ وہ اپنی ندامت کو برداشت نہ کرتے ہوئے جلسہ سالانہ سے اُٹھ کر چلے گئے۔جلسہ کے آخری اجلاس میں حضور نے چند نکاحوں کا اعلان فرمایا۔اور پھر سامنے ان کو سمجھ آنے والے طریق پر حصول قریب الہی کے ذرائع بیان فرمائے۔سوانح فضل عمر م ۲۳۹) اس تقریر کی تصاحت وبلاغت نے اپنے بیگانے سب کو حیرت زدہ کر دیا حضور کی ان تقاریر کے بارہ میں آریہ سماج کے مشہور اخبار پر کاشت کی رائے ذیل میں در جا کی جاتی ہے۔جلسہ میں خاص کشش کا باعث میرزا محمود احد صاحب کے یکچر تھے میں احمدی دوستوں کی عقیدت اور بردباری کی تعریت کرنی چاہیئے کہ میرزا صاحب کے لیکچر پانچ گھنٹے تک ہوتے رہے اور وہ سنتے رہے آریہ سماج کے اندری سے بڑے دیا کھنار لیکچرار) بھی یہ ہمت نہیں رکھتا کہ حاضرین کو پانچ گھنٹوں تک بجھا سکے یہاں تو لوگ ایک گھنٹہ میں اکتا نے لگ جاتے ہیں ہم اپنے احمدی دوستوں کو ان کے حلیہ کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔سوانج فضل عمر ص ۲۳) حضرت خلیفہ اسی ثانی کی یہ تقریری عرفان الہی کے نام سے کتابی شکل میں سٹائع ہو چکی ہے۔اختتامی تقریر فرمائی۔جات لانه مستورات مستورات اس دفعہ پہلے کی نسبت زیادہ تعداد میں آئی تھیں۔جین کا بہت لطفی میں انگ جلسہ ہوتا رہا۔حضرت خلیفة المسیح الثانی نے مستورات سے بھی خطاب فرمایا۔نیز حضرت حافظ ندوشن علی ، حافظ غلام رسول وزیرآبادی، حضر کی حضرت مولودی غلام رسول را جیکی اور حضرت مولوی ابراہیم نے بھی مستورات کے حلیہ میں تقاریر کیں۔