المحراب

by Other Authors

Page 49 of 207

المحراب — Page 49

طور پر کرے کیونکہ ان کی مشکلات مجھ سے بڑھ کر اور بہت زیادہ تعداد جلسہ میں شمولیت کے لئے قادیان آئی۔ہوں گی۔دوست کم ہوں گے اور دشمن زیادہ۔۔۔۔۔اس سال حضور کے ارشاد کے مطابق تعلیم الاسلام کالج کے سینٹرل ہال حضور کی به تقاریر انوار خلافت کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو۔کی گیلہ ہیں احمدی مستورات کے واسطے مخصوص کر دی گئی تھیں اور پردہ کا پوران ولایت کر دیا گیا تاکہ مستورات اور آئندہ نسل کی ماؤں کو بھی تقریریں سننے کا موقع مل سکے۔چکی ہیں۔اس علیہ میں حضور نے جماعت کو قرآن کریم کے پہلے بارہ کا انگریزی راجہ شائع ہونے کی خوشخبری دی۔ترجمہ کی عید دوست مبارک میں پکڑ کر آپ نے فرمایا۔جب محبت کرنے والے اور محبوب لوگ دیر کے بعد ملتے ہیں توان کو تحفہ دیا جاتا ہے میں جماعت کو اس جلسہ پر یہ تحفہ پیش کرنا ہوں جس سے زیادہ بیش قیمت اور کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔جلسہ کے لئے احباب چونکہ بکثرت دار دسمبری کو تشریف لاچکے تھے اس لئے حضور کے ایجاد پر ۲۵ کو ہی جلسہ شروع کر دیا گیا اور ۲۵ تاریخ کو کارروائی حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی کی تقریر سے شروع ہوئی۔اس کے بعد مدرسہ احمدیہ اور مبلغین کالج کے متعدد طلباء نے جدا جدا عتوانوں پر تقاریر کیں۔اس جلسہ میں ہونے والی چند تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے احمدی جماعت کا نصب العین کیا حضرت مولوی سید سرور شاه ہونا چاہیئے۔شیخ عبد الرحمان فاضل ام الاسنة ہم احمدی کیوں بنے حضرت حافظ روشن علی اختلاف سید حضرت میر محمد اسحاق اصحاب النبل حضرت مولوی غلام رسول را جیکی اس کے علاوہ مصدر انیمین احمدیہ کی رپورٹ سنائی گئی۔دوران جلسه درس قرآن مجید مردوں اور عورتوں دونوں میں ہوتا رہا۔جات لانه خواتین جلسہ سے پہلے حضرت خلیفہ اسی کی طرف سے ایک اعلان شائع ہوا تھا جس کا آخری حقیقہ یہ تھا۔میں طرح پچھلے سال عورتوں کے لئے لیکچروں کا انتظام کیا گیا تھا اس سال بھی انتظام کیا گیا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس سال ایسا انتظام کر دیا جائے کہ مردوں کے جلسہ میں ہی عورتوں کے لئے ایک علیحدہ پر وہ دار جگہ بنادی جائے تا کہ وہ بھی لیکچر میں۔اس سے ان کو پہلے سے زیادہ لیکچر سنے کا موقع مل جائے گا اور وہ جماعت کی سالانہ ترقی کی رپورٹ بھی سن سکیں گی۔" پچپین واں جلسہ سالانہ 1414 منعقده ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۱۷ بمقام بیت النور قادیان سیر کی بی پہلی تقریر میں حضورنے وقتی حالات کے مطابق متفرق امور پر پر روشنی ڈالی۔۲۷ دسمبر ک دو پہر دوسری تقریر میں حضور نے جماعت کو اس کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ مدعیات اسلام کن غلط عقائد میں گرفتار ہیں اور بہت سی باتیں قابل اصلاح ہیں اور جماعت کا فرض بنتا ہے کر ان کی اصلاح کریں۔۲۸ دسمبر کو حضور نے تیسری تقریر ذکر الہی کے عنوان پر فرمائی۔اس تقریر کو تصوف اسلام کا بہترین خلاصہ اور عطر کہنا چاہیئے اس میں ذکر کی اہمیت اس کی اقسام اس کے آداب واوقات بتانے کے علاوہ تہجد کے لئے اٹھنے کے تیرہ طریق اور غاز میں توجہ قائم رکھنے کے بائیں ایسے عملی طریق بتائے کہ سنے والے وید میں آگئے۔دوران تقریر ایک غیر احمدی صوفی صاحب نے رقعہ بھیجا کہ آپ کیا غضب کر رہے ہیں۔اس قسم کا ایک ایک نکتہ صوفیائے کرام دس دس سال خدمت لے کر بتایا کرتے تھے۔آپ ایک ہی مجلس میں سب رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔حضور کی یہ تقریر پانچ گھنے یک جاری رہی۔حاضرین ایک قدرتی کشش سے مسحور دل جمعی سے تقریر سنتے ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی یہ تینوں تقریریں ذکر الہی کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔اس جلسہ میں ہونے والی دیگر تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔اختلاف مابین احمدیان و غیر احمدیان حضرت حافظه روشن علی حضور کے اس اعلان کے نتیجہ میں پہلے کے مقابلہ میں عورتوں کی ایک بڑی اختلاف اندرونی حضرت میر محمد اسحاق ۵۲