المحراب — Page 172
معوذ بن شامل تھے۔آج بھی اگر توبه کرد تو ہماری دعائیں جن پر تم نے ظلم توڑے ہیں۔خدا کی قسم آج بھی تمہیں بچالیں گی۔ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ اور صرف ایک راہ کہ یہ تو یہ ار اگست شاد کو افتاحی خطاب میں حضور نے فرمایا جماعت احمدیہ کی تاریخ میں یہ سال غیر معمولی اہمیت کا سال ہے اور دنیا کریں اور اگر موت آبھی گئی ہو تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ احمدیوں کی دعا سے کے ایک موہیں ممالک میں جماعت احمدیہ صد سالہ جشن تشکر بنا ہی ہے۔موت مل جائے گی اور ملک بچ جائے گا۔اس موقع پر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا پیغام جس طرح دنیا کے کونے کرنے تک پہنچا اس کا ذکر انسان کو سراپا حمد سے بھر دیتا ہے۔۱۳۸ جولائی کو حضور نے فرمایا۔اس سال ایک لاکھ تیس ہزار افراد احمدی ہوئے ۱۲ ممالک میں احمدیت مستحکم طور پر یا تم ہو چکی ہے۔ایک سال میں نمی بود الذکر ۱۲ اگست کو خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تعمیر ہوئی ہیں۔۴ نے جماعتی اخبار و جرائد کا اجرا د ہوا۔۳۶ر ممالک کے ریڈیو۔اور ماں باپ کے متعلق اسلام کی تعلیم اگر دنیا میں رائج ہو جائے توانسانی معاشرہ ممالک کے ٹیلی وژن نے جماعت کے بارہ میں پروگرام نشر کئے تحر یک وقف تو میں بہت ہی زیادہ حسین ہو کر ابھر سکتا ہے۔حضور نے عورت پر آنحضر صل للہ علیہ وسلم پانچ ہزار بیچے شامل ہو چکے ہیں۔کے احسانات کا بھی تذکرہ فرمایا اور اسلام میں عورت کے حقوق کا بھی تذکرہ فرمایا۔۱۳ اگست کے دوسرے اجلاس میں احباب جماعت سے خطاب فرماتے ہوئے ۲۹ جولائی کو اختتامی خطاب میں فرمایا جماعت احمدیہ عالم انسانیت کے لئے آخری پناہ گا ہ ہے۔ہم کمر در ہیں مگر جماعت احمدیہ پر ہونے والے خدا کے انعامات اور جماعت احمدیہ کی ترقیات کا تذکرہ وہ خدا کمر، در نہیں جس نے ہمیں کھڑا کیا ہے۔ہمارے ہتھیار محبت اور دلائل کے ہتھیار فرمایا۔حضور نے فرمایا۔احمدیت کی ترقی کی رفتار میں حیرت انگیز صورت پیدا ہوچکی ہے ہیں۔ہم قوموں کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں مارنے کے لئے نہیں ہے خدا نے اتنا کچھ دیاکہ میرے تصور کی انتہا بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی جوبلی کے برطانیہ کے نمبر پارلیمنٹ ہیوگو سومرین ، WAVERLAY کے میٹر اور کینیڈا سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ بیعتوں کی خواہش کا اظہار۔افریقہ کی حکومتوں میں پائی کے ممبر پارلیمینٹ نے خطاب کیا۔حاضری تقریباً ۸ ہزار جانے والی انسانیت اور شرافت قابل داد ہے۔الر اگست کو اختتامی خطاب میں حضور نے صد سالہ جشن تشکر کے سلسلے میں مختلف ممالک میں اپنے دوروں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ” آج احمدیت ساری دنیا میں احسان اور عربیت کے ساتھ یا نہ کیا جارہا ہے۔میرا جو بلی کا پیغام ایک عالمی پیغام ہے جو ہر قسم کے نظام اور سفاکی کی نفی کرتا ہے۔والفضل ۱۶ تا سوم ، اگست ۱۹ منتقده : ۲۸/۲۷/۲۶ جولائی ۶۱۹۹۷ جولائی کو اسلام آباد میں سید نا حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا طاہر احمد صاب نے ساڑھے چار بجے شام ہوائے احمدیت لہرانے کے بعد جلسہ سالانہ یو کے کا افتتاح فرمایا اس جلسہ کی ایک خصوصیت رفیق مسیح حضرت مولوی محمد حسین صاحب کی تشریف آوری بھی جنہیں خاص طور پر حضرت صاحب نے بلایا تھا۔آپ نے فرمایا۔افتتاحی تقریر میں حضور نے نظام قدرت ثانیہ سے وابستگی، اللہ کی رہتی کو مضبوطی ہماری اصل موریت اس ٹینرنگ کی ذات میں ہے میں نے پائی سلسلہ کی محبت سے پکڑانے اور نظام جماعت کی اطاعت کی ضرورت اوراہمیت کا مضمون بیان فرمایا پائی تھی آپ ان کی برکتیں حاصل کریں تاکہ آئندہ صدی میں ان پر کتوں کو بھی اسے افتتاحی اجلاس میں ۲۴ ممالک کے ۲۵۰، نمائندے شامل تھے جن میں سے والے بن جائیں اور وہ صدی ان تابعین سے برکت پائے جنہوں نے حضرت ۲۳۱۰ کا تعلق انگلستان کے علاوہ دوسرے ممالک سے تھا۔حضور کی بانی سلسلہ کے رفتار سے برکت پائی ہو تقریر کا ترنمبر ایک وقت سات زبانوں میں کیا جا رہا تھا اور گیارہ مختلف ممالک میں احباب جماعت اپنی اپنی جنگہ براہ راست حضور کا افتانی خطاب سن منعقده ۲۷ ۲۸ ۲۹ جولائی ۱۹۹ برطانیہ کا سلور جوبلی جلسہ ہو جولائی کو اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا خدا کی قسم اگر یہ ملک بچ سکتا ہے تو صرف دعاؤں سے۔پاکستانی احمدیوں نے بے مثال جرات صبر اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہے۔حضور نے پر جلال الفاظ میں فرمایا۔رہے تھے۔