المحراب

by Other Authors

Page 129 of 207

المحراب — Page 129

مکمل نموز موجود ہوتا۔اور ہر سال دنیا کے مسلمان وہاں سے دینداری کا تازہ سبق لے لے کر پلٹنے۔مگر وائے افسوس کہ وہاں کچھ بھی نہیں۔مدت ہائے دراز سے عرب میں جہالت پرورش پا رہی ہے۔تالائو تے حکمران اپنے دین کے مرکز میں پہنے والوں کو ترقی دینے کے بجائے صدیوں سے مہم گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔انہوں نے اہل عرب کو علیم ، رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے ؟ الوصیت طبع اول ما روحانی خزائن جلد عن ۲ ۳۵) سیدنا حضرت مصلح موعود اپنے مشہورعالم لیکچر دو میلے کانفرنس منعقدہ ۱۹۲۴ بام لندن میں واضح لفظوں میں بتایا : اسلام کے نزدیک حکومت اس نیابتی فرد کا نام ہے جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔اس مفہوم کے سوا اسلام میں اور کوئی مفہوم اسلامی نقطہ نگاہ کے مطابق نہیں۔اور سوائے نیابتی حکومت کے اسلام اور کسی حکومت کا قائل نہیں۔قرآن کریم نے اس مفہوم کو ایک نہایت ہی عجیب لفظ کے ساتھ ادا کیا ہے اور وہ لفظ امانت ہے۔قرآن کریم حکومت کو امانت کہتا ہے۔(سورہ نساء آیت ۵۹) یعنی وہ اختیار لوگوں نے کسی شخص کو دیا ہو۔نہ وہ جو اس نے خود پیدا کیا ہو۔یا بطور ورثے کے اس کو مل گیا ہو۔یہ ایک لفظ ہی اسلامی حکومت کی تمام کیفیات کو بیان کرنے کے اخلاق تمدن ہر چیز کے اعتبار سے پستی کی انتہا تک پہنچا کر چھوڑا ہے نتیجہ ہے کہ وہ سرزمین جہاں سے کبھی اسلام کا نور تمام عالم میں پھیلا تھا آج اسی جہالت میں پہنچ گئی ہے جس میں وہ اسلام سے پہلے مبتلا تھی۔اب نہ وہاں اسلام کا علم ہے ، نہ اسلامی اخلاق ہیں ، نہ اسلامی زندگی ہے۔لوگ دور دور سے بڑی گہری عقید میں لئے ہوئے حرم پاک کا سفر کرتے ہیں مگر اس علاقہ میں پہنچے کہ جب ہر طرف ان کو جہالت گندگی طمع بے حیائی، دنیا پرستی ایک اخلاقی، بد انتظامی اور عام باشندوں کی ہر طرح گری ہوئی حالت نظر آتی ہے تو ان کی توقعات کا سارا طلسم پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے۔" (خطبات طبع سفتم مث۱۹) جماعت احمدیہ میں جلسی لانہ اور نظام خلافت جیسے روحانی انسٹی ٹیوشنر قرآنی ہے۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ جوں جوں لوگ احمدیت میں داخل ہوتے لیگ آف نیشنز اور یو این او کے معرض وجود میں لانے کے لئے ہی قائم کئے گئے ہیں۔چلے جائیں گے ، اپنی مرضی سے بلا کسی جبر کے خود اس طریق حکومت جیب کہ حضرت مسیح موعو بانی سلسلہ احمدی نے ، دسمبر کو بذریعہ اشتہار فرمایا ہے اس میلہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ دہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ دین حق پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کیلئے قومیں طیار کی ہیں۔جو عنقریب اس میں آئیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔عنقریب ووقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ۔۔۔۔خدا تعالی اس امت وسط کے لئے بین نہین کی راہ زمین پر قائم کر دے گا۔وہی راہ میں کو قرآن لایا تھا پر دبی راه جو رسول کرم صلی الہ علیہ وسلم نے اپنے صابر علی اله مهم و کسانی تھی۔وہی ہدایت جو ابتداء سے صدیق اور شہید اور صلحا و پاتے رہے۔یہی ہو گا۔ضرور یہی ہو گا۔ضرور یہی ہو گا جیس کے کان سُننے کے ہوں سنے مبارک وہ لوگ جن پر سیدھی راہ کھولی جائے ؟ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۴۳ - ۳۴۲) حضور نے الو حیرت میں قدرت ثانیہ (خلافت احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے پیشگوئی فرمائی۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام دوستوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت لئے کافی ہے۔۔۔۔۔ہم لوگوں کے نزدیک یہی طریق حکومت حقیقی کی عمدگی کو تسلیم کر لیں گے اور بادشاہ بھی ملک کے قائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے موروثی حقوق کو خوشی سے ترک کر دیں گے ، اور اپنے منی کو اسی حد تک محدود رکھیں گے جس حد میں ملک کے دوسے افراد کے حقوق محدود کئے گئے ہیں۔چونکہ حضرت مسیح موعود کو خدا تعالی نے صرف روحانی خلافت دے کر بھیجا تھا۔اس لئے آئندہ جہاں تک ہو سکے آپ کی خلافت اُس وقت بھی جبکہ بادت نہیں اس مذہب میں داخل ہوں گی بسیاسیات سے بالا رہنا چاہتی ہے۔وہ لیگ آف نیشنز کا اصلی کام سرانجام دے گی اور مختلف ملکوں کے نمائندوں سے مل کر ملکی تعلقات کو درست رکھنے کی کوشش کرے گی۔اور خود مذہبی اخلاقی تمدنی اور علمی ترقی اور اصلاح کی طرف متوجہ رہے گی تاکہ پچھلے زمانہ کی طرح اس کی توجہ کو سیاست سہی اپنی طرف کھینچے نہ لے اور دین و اخلاق کے اہم امور بالکل نظر انداز نہ ہو جائیں۔جب میں نے کہا " جہاں تک ہو سکے، تو میرا یہ مطلب ہے کہ اگر عارضی طور پرکسی ملک کے لوگ کسی مشکل کے رفع کرنے ۱۵۲