المحراب — Page 80
ہوا تو آپ کو وہاں بھیجا گیا آپ نے جلسہ میں تقریر کیا، تقادیان کے جا سیالان عبد الرحیم در دنا جب انگلستان سے واپس تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں آپ کی تقاریہ ہوا کرتی تھیں اور آپ تنظمیں بھی پڑھا کرتی تھیں براسا میں جو ایڈریس پیش کیاگیا اس میں آپ کی خدمات کو سراہا گیا۔آپ نے شو ہر کی میں لاہور کے سیرت النبی کے جلسہ پر تشریف لے گئیں اور سیرت پاک پر تقریر کی۔غیر موجودگی کا عرصہ انتہائی صبر وتحمل سے گزارا۔آپ نے ان گفت احمدی بچوں کی نصرت گولز ہائی اسکول میں آپ نے تدریس کے فرائض سر انجام دیئے۔تربیت فرمائی۔آپ کو خدا تعالے نے نیک اور خادم دین اولاد سے نوازا ۱۹۳۹ ء میں مشوری میں عورتوں کی نمائندگی کے حق کے بارہ سے ہیں آپ آپ کیا ایک بیٹی رضیہ دور د ساجر مجلس عاملہ مرکزیہ کی میر ہیں اور لیے ترمہ سے نے تقریر کی۔قاریان یا۔یوں میں ہو بھی مالی قربانی کی تحریک ہوتی اس میں حصہ بحنہ کی خدمت کر رہی ہیں۔خدا تعالی ، مہ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی اولاد کو نہیں وقف جائیداد کی حرکہ کے وقت بھی آپ نے اپنے مکان کا پر حصہ کا وقف لا بعد نسل اپنی رضاکی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔کیا۔اسی طرح الیکشن کے کام میں بھی پیش پیش رہیں۔نواحی در ات میں تدریس کام بھی آپ نے کیا۔آپ بڑی اچھی منتظمہ اور سادہ طبیعت کی مالک تھیں۔ربوہ میں تدریس القرآن کلاس کا اجراء ہو تو کئی سال تک تدریس کے فرائض انجام دیں رہیں۔اله صاحبہ نفرت گرلز اسکول ربوہ سے یہ ٹائر ڈ ہوگئیں تو آپ کو بیرونی لینات کے محترمہ بشریٰ بیگم صا دورہ جات کا کام سپرد ہوا۔اس کا میں کم وبیش 4 دفعہ پشاور - کراچی لاہور۔ملتان مشرقی بنگال اور مختلف دیہاتوں کے در، جات کئے ہیں بنتے کرم ماسٹر شیخ عبد الحمر صاحب آپ خلیفہ نورالدین آف جموں کی نواسی تھیں۔آپ کی شادی جناب کافی عرصہ لجنہ کے اسٹور کا کام کیا۔۱۹۳۳ٹہ میں کئے ہوئے عہد وفا کو بڑے خلوی محبت و محبت سے نبھایا۔جولائی 19 میں وفات پاگئیں اللہ تعالئے اپنی محبت سے نوانہ ہے۔آمین ماسٹر محمد حسن تاج صاحب سے ہوئی تھی۔آپ بہت ذہین اور تحصیل علم کا شوق آپ کے پوتے حترم ڈاکٹر خالد احمد صاحب، نصرت جہاں کے تحت افریقہ یکم رکھنے والی خاتون تھیں۔لجنہ اماء اللہ کے کاموں میں پیش پیش رہتی تھیں مدرسہ کام کر چکے ہیں۔آپ کی شادی حضرت مصلح موعود د آپ پر خدا راضی ہو، کی نواسی سے انخواتین میں داخلہ لیلہ بہت اچھی مقربہ بھی تھیں۔جو کام بھی آپ کے سپرد کیا جاتا عربیہ امتر الی صاحبہ سے ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں کو اپنے حفظ وامان اس کو بڑی تندہی سے کرتی تھیں۔جلاس سالانہ پر نائبر منتظر بیعت کا کام کرتی رہیں آپ ا وہیں بیمار ہوگئیں اور پھر بستر سے اٹھ نہ سکیں۔اورستمبر کو وفات پا گئیں آپ موصیبہ تھیں۔میں رکھے اور خادم دین بنائے۔آمین۔۱۳ محترمہ سارہ در و صاحبه دیگر مالی قربانیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔آپ کی ایک ہی بیٹی محترمہ عزیزه خورشید بیگم محمود احمد خان لودھی مرحوم ہیں۔انہوں نے ساری زندگی لجنہ اماءاللہ کی خدمت میں گزاری جہاں بھی راہیں مثلاً لاہور، منڈی بہاء الدین میں مختلف عہدوں پر کام کیا۔دیدہ میں امتہ الحمی لائبریری میں کام کیا۔اور اب کراچی میں حلقہ لیاقت آباد اهلية مولانا عبد الرحيم در دما کی صدر ہیں اور ضلع کراچی کے دفتر میں کام کرتی ہیں۔آپ کے بیٹے منور احمد اور منصور احمد دونوں جماعت کا کام کرتے ہیں۔منصور احمد حافظ قرآن بھی ہیں آپ آپ حضرت میاں محمد اسمعیل صاحب تاجر کتب آکی مالیر کوٹلہ کی بیڑی کی بیٹیاں امتہ النور، امتہ القدير، امتہ المتین تینوں ناصرات الاحمدیہ کی صاجزادی تھیں اپر کی موصیہ تھیں۔نہایت صابرہ شاکرہ اور متوکل علی الله قانون سیکرٹری کے طور پر کام کرتی ہیں۔دعا ہے خدا تعالے آئندہ نسلوں کو بھی خدمت تھیں۔خاندان حضرت مسیح موجود آپ پر سلامتی ہوا سے بہت پیار کرتیں۔قرآن پاک دین کی توفیق عطا فرماتا رہے۔آمینے۔سے عشق تھا۔قرآن کریم حضرت خلیفہ اول سے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اللہ تعالی ان نیک دپاک خادم دین ہستیوں کو ہمیشہ آئیں گے۔آن گفت بچوں کو قرآن کریم پڑھا یا سی ۱۹ ء میں جب آپ کے شوم محترم مولانا لیے اپنی محبت کی چادر میں ڈھانپ لے اور اپنی رضا کے پانی سے سیراب فرمائے اور قیامت تک جماعت احمدیہ کی نسلوں کو ان کے نیک نمونہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔^^