المحراب

by Other Authors

Page 44 of 167

المحراب — Page 44

حضور کے دن رات کی ایک جھلک چاند کو قریب سے دیکھنے کے خواہشوں میں زہر میں اٹھنے والے سوالات حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحب حریم خلیفہ اس الرابع کو لکھ بھیجے۔بیگم صاحبہ نے ازراہ کرم بڑا حسین نے جواب مرحمت فرمایا تاریخ کہ جوابات سے سوالات کا اندازہ ہو جائے گا اس سے لئے تمہید کو تنفر کر تے ہوئے بیگم صاحب کا جواب حاضر ہے۔اگر سیون ہال روڈ اندار تھے۔ساؤتھ ویسٹ ۱۸ 919 محترمہ امتہ الباری صاحبہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ سب سے پہلے تو لجنہ کراچی کو پچاس سال مکمل ہونے پر مبارک باد دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے کام میں برکت ڈالے اور آپ کے مجھے کو کامیاب کرتے ہوئے سب ارکا وہیں دور فرمائے۔آمین۔آپ نے جو سوال لکھے ہیں۔یہ تو ہر احمدی کے ذہن میں آتے ہیں، چاہے وہ قریب رہتا ہو یا دور۔دراصل اللہ تعالے کا فضل ہی ہے میں سے سارے کام ہو رہے ہیں۔خلافت پیسا یہ باری تعالے ہے جو انسانی ہمت سے بڑھ کر کام لے چاہتے ہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالی کی ڈاک مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔اور اسی نسبت سے جواب بھی دیتے ہیں۔مختصر یہ کہ ڈاک ذاتی، جماعتی ، مشورے اور دعائیہ نوعیت کی ہوتی ہے۔ایک بات میں خاص طور پر لکھوں گی کہ حضور پر آنے والے خط کو ضرور پڑھتے ہیں چاہے وہ کسی نوعیت کا ہو اور ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ بہا چھوڑا خط ہے لیکن حضور کی نظر صرف اسی لائن پر رکی ہے جو لکھنے والے کا منشاء تھی کہ حضور ایدہ اللہ تعالے کو معلوم ہو جائے اور ایک نظر ہی کرانی ہوتی ہے۔جہاں تک ذاتی مخطوط کا تعلق ہے اُن کا جواب اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور جماعتی خطوط متعلقہ شعبہ کو ہدایات کے ساتھ بعض دفعہ لفظاً لفظاً جواب لکھواتے ہیں اور بعض اوقات صرف ہدایات ہی دیتے ہیں۔جماعتی ایڈ منسٹریشن کے خطوط اور اہم فیصلوں کے تخطو ط لفظا لفظ لکھواتے ہیں۔ایسے خطوط جن میں مشورے کے لئے لکھا ہو یا دوائی کے متعلق تحریرے ہو اُن کا جواب بھی خود لکھواتے ہیں۔ان کے علاوہ کہ عائیہ خطوط سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ان کو پڑھ کہ اگر فقاص ہدایت دینی ہو تو خط کے کنارے پر لکھ دیتے ہیں اور دعائیہ خطوط کے جواب کے لئے کئی لوگ مقرر ہیں۔ربوہ میں یہ کام دفتری طور پر ہوتا تھا لیکن یہاں والنظر نہ ہیں جو جواب دیتے ہیں۔۴۶