المحراب

by Other Authors

Page 12 of 167

المحراب — Page 12

دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا ہی ہے حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے اس ازلی ابدی ماخذ علوم کا شکریہ ادا کر تا ہوں جس سے سب علوم رکھتے ہیں اور جس کے باہر کوئی علم نہیں۔وہ علیم وہ نور ہی سب علم بخشتا ہے۔اُس نے اپنے فضل سے مجھے قرآن کریم کی سمجھ دی اور اس کے بہت سے علوم مجھے پر کھولے اور کھولتا رہتا ہے۔سبحان الله والحمد لله ولا حول ولا قوة الا بالله دوسرا ماخذ قرآنی علوم کا حضرت محمد مصطفے صلی الہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔آپ پر قرآن نازل ہوا اور آپ نے قرآن کواپنے نفس پر دارد کیا جتنی کہ آپ قرآن مجسم ہو گئے۔آپ کی ہر حرکت اور آپ کا ہر سکون قرآن کی تفسیر تھے۔آپ کا ہر خیال اور مر ارادہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کا ہر احساس اور ہر مرد یہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کی آنکھوں کی چمک میں قرآنی نور کی بلیاں تھیں اور آپ کے کلمات قرآن کے باغ کے پھل ہوتے تھے۔ہم نے اس سے مانگا اور اس نے دیا۔اس کے احسان کے آگے ہماری گر نہیں خم ہیں۔اللهم صل علی محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد پھر اس زمانے کے لئے علوم قرآن کا ماند حضرت مرزا غلام احمد سیح موعود اور مہدی مسٹو کی ذات ہے میں نے قرآن کے بلند و بالا وخت کے گردے جھوٹی روایات کی اکاس بیل کو کاٹ کر پھینکا اور خدا سے مدد پا کر اسی منبتی درخت کو سینچا اور پھر سرسبز و شاداب کرنے کا موقع دیا۔الحمد یہ ہم نے اس کی رونق کو دوبارہ دیکھا اور اس کے پھل کھائے اور اس کے سائے کے نیچے بیٹھے مبارک وہ جو قرآنی باغ کا پانیاں بنا۔مبارک و جیں نے اسے پھر سے زندہ کیا اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کیا۔مبارک وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اور خدا تعالیٰ کی طرف چلا گیا۔اس کا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے بہت کچھ دیا اور حق یہ ہے کہ اس میں میری فکر یا میری کوشش کا دخل نہیں وہ صرف اس کے فضل سے ہے مگر اس قتل کے جذب کرنے میں استاذی المکرم مولوی تورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاوّل کا بہت حصہ ہے پھر اے پڑھنے والو میں آپ کہتا ہوں قرآن پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے کے لئے ہے ایس ان نوٹوں میں اگر کوئی خوبی پاؤ تو نہیں پڑھو، پڑھاؤ اور پھیلاؤ عمل کرد عمل کراؤ اور عمل کرنے کی ترغیب دو یہی اور یہی ایک سیلو دین حق ناقل کئے وہاڑا جیاء کا ہے۔احیاء کا ہے۔اسے اپنی فانی اولاد سے محبت کرنیوالواو خدا سے ان کی زندگی چاہنے والوکی ان تعالی کی اس ادگار اور اس حصہ کی روحانی زندگی کی کشش میں حصہ نہ لو گے تم اس کو زندہ کر دو ہم کو اور ہماری نسلوں کو ہمیشہ کی زندگی بنے گا۔اٹھو کہ ابھی وقت ہے۔دوڑو کہ خدا کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔اللہ تعالی آپ لوگوں پر بھی رحم فرمائے اور مجھے پر بھی کہ ہر طرح بے کی ہے ہیں اور پر سکتہ ہوں۔اگر مجرم بنے بغیر اس کے دین کی خدمت کا کام کر سکوں تو اس کا بڑا احسان ہوگا۔یاستار با غفار ارمنی با ارحم الراحمین بر مشک استلغیت مرزا محمد احمد (دسمبر ۱۹۴۰ء) (دیباچه تفسیر کبیر جلد سوم ) ۱۴