المحراب

by Other Authors

Page 104 of 167

المحراب — Page 104

سے مسلسل تعلیم جو سیالکوٹ کانونٹ اسکول سے شروع ہوا تھا قصور، قادیان ضلع گجرات کے ہاں مٹی کو پیدا ہوئیں آپ کی والدہ محترمہ مرد جنگی جہ نھیں اور لاہور جاری رہا۔میراک میں تعلیم پائی۔ابتدائی تربیت میں تھا وہ مدرس الخواتین قادیان کی تعلیم یافتہ تھیں۔قرآن پاک کی درس دندہیں دادا مرحوم کی خاص توجہ شامل رہی پھر حضرت اماں جان، نصرت جہاں بیگم سے خاص شغف تھا۔کوئٹہ میں قرآن پاک کا درس دیتے ہوئے اچانک کا ہر سال اوسط تین، چار ماہ ان کے گھر قیام۔خصوصی تربیت کا باعث دل کا دورہ پڑنے سے وفات پائی۔والد صاحب کی وفات کے بعد بنا۔حضرت امال جان مرحومہ آپ ہی کے کمرہ میں قیام فرمائیں اور نماند و پرورش و تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بڑے بھائی میر حمید اللہ صاحب روندہ کے ساتھ نشست دیر خواست تک سب آداب سکھائیں۔محترمہ (برج انسپکڑا اور باجی نعیمہ بیگم صاحبہ نے ادا کی۔بھابی نے قادیان نصیرہ بیگم صاحبہ بنت حضرت میر اسحق صاحب دوسری والدہ کی شکل میں میں تعلیم حاصل کی تھی بڑی توجہ اور شوق سے محترمہ سلیمہ صاحبہ کونڈل ہمدرد شفق رہنما ثابت ہوئیں۔گیارہ اپریل ۱۹: حضرت مصلح موجود تک پڑھا کرو دینی مدرسہ میں داخل کروایا۔جہاں آپ نے عالمہ تنگ نے حضرت صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب کے ساتھ نکاح پڑھایا او بیش تیمی تعلیم حاصل کی۔تعلیمی سہولت مہیا کر نے اور دینی تربیت میں انجاک نصائح کے ساتھ ڈھا کہ رخصت فرمایا۔کی وجہ سے بھائی بھائی، ماں باپ کا درجہ حاصل کر گئے جو ہم اللہ تعالی مٹی سرا ماہ سے لجنہ کا کام شروع کیا۔کلکتہ میں قحط زدہ 194ء میں شادی ہوئی شوہر واقف زندگی تھے تقسیم بیغیر لوگوں کی امداد میں دن رات ایک کرد بیٹھے بر 19 میں سابق مشرقی کے بعد کراچی آکر جیکب لائنز میں مقیم ہوئے برا 194 ء میں ایران گئے۔پاکستان تبادلہ ہوا تو لجنہ کے عمومی کاموں کے علاوہ سیلاب زدگان اور تقسیم وہاں تین چار احمدی گھرانے تھے اُن کے نماز جمعہ و اجلاس وغیرہ کا اپنے کے متاثرین کی ہر طرح داد رسی کی توفیق ملی ب 19ء میں کراچی آئیں تو مکان پر انتظام کیا۔۱۹۶۲ میں شوہر کی وفات کے بعد اپنے بھائی حضرت سیدہ دارم متین صاحبہ نے صدر مقررہ فرمایا۔میرامان اللہ صاحب کے پاس کراچی آگئیں اور آٹھ نو عمر بچوں کی تمرا چی بھنہ میں زندگی کی نئی لہر پیدا کرنے کے لئے پورے کراچی کے دور و نزدیک علاقوں کے دور سے گئے۔اصلاحی تقاریر کیں جن میں پرورش کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور بی اے تک تعلیم پائی۔ساتھ ہی ساتھ لجنہ کے دفتر اگر ڈاک کا جواب دیتے کا کام شروع کیا۔وقت کی پابندی پر زور دیا۔لجنہ کے اجتماعات میں وقت کی پابندی پر حلقہ پی ای سی ایچ ایس میں خدمت کا موقع ملا بعد انہاں وہاں کی صد عمل کر وایا۔جس کا اثر اب تک موجود ہے۔جہیز فنڈ علیحدہ کیا۔بڑی منتخب ہو گئیں۔قیادتوں کی تشکیل ہوئی تو یہ علاقہ قیادت نمرہ میں یا زرداری سے عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے اپنے سامنے ضرورت کے شامل ہو گیا اور آپ کو قیادت کی نگران کے فرائض سے برا 190 ء میں مطابق جہیز تالہ کروا کے پہنچاتیں۔مہاجرین بہار کے لئے وظائف مقرر کئے جب منتظر کیٹی کا قیام عمل میں آیا تو آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث تعلیم کے فروغ کے لئے فنڈ جمع کر کے یونیفارم تب ہوتے، سویٹر یا نے منتظمہ کمیٹی کی صدیر نامند فرمایا ہے یا ہو میں جب لجعہ کراچی کا مرکزی لجنہ کرتیں۔حلقہ احباب وسیع ہونے کی وجہ سے غیر از جماعت بہنیں بھی اس سے دوبارہ الحاق ہوا تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے آپ کو صدر لجنہ کراچی فنڈ میں حصہ لیا محترم سلیم رضا نامرہ دفرمایا۔آپ کے عہد صدارت کا سب سے بڑا استرانہ دو خلفاء کی شفقتوں اور مجنوں سے بھر پور رہنمائی ہے۔ہمارے مجلہ الحراب میں اهلیه مکرم عایق در جن ادار محترمہ آپا سلیم میر صاحبہ کے عہدِ صدارت کی کار کردگی کا بھر پور اظہار ملتا عہد صدارت ۱۹۸ سے تا حال 19 کے بیعت کننده میر الہی بخش صاحب آف شیخ پور ہے۔تعدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری محبوب صدر کو اپنی رضا کی راہوں پر چلاتے ہوئے تادیر صحت و تندرستی کے ساتھ قدمت سلسلہ کی توفیق بیتا چلا جائے۔آمین۔۱۱۲