المحراب — Page 101
صدور لجنہ اماءاللہ کراچی مح مرامة النصرمة احمدی گھرانے اس قدر نہ تھے۔خواتین کی تعداد بمشکل پندر ہیں تھی۔اهلیه چودھری اححاصباء آپ نے انہیں قریب لانے کے لئے گھر گھر جا کر ان کو یکجا کیا اور اپنے عهد صدارت ۹ تا ۱۹۴۷ گھر میں اجلاس بلانے شروع کئے۔مختلف قسم کی پارٹیوں اور دعوتوں کے بہانے ان کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔آخر دن رات کی محنت رنگ لائی اور یوں 19 ء میں کراچی لجنہ کا قیام عمل میں آیا۔(تاریخ الجن امید محترمہ استہ النصیر صاحبه ند و حجه هجمه دهری احمد جان صاحب امر متین ماہ میں مرقوم سے محترمہ امت اللہ ماہ اہلیہ ڈاکٹر میں اتنے بند کراچی کی بنیاد رکھیں مرحوم کو یہ فخر حاصل ہے کہ لجنہ اماء اللہ ضلع کراچی کی بنیاد ان کے ہاتھوں آپ لجنہ کراچی کی پہلی صدر منتخب ہوئیں۔آپ نے اپنی جماعتی ذمہ داریاں رکھی گئی۔اور نہ لجنہ کراچی کی پہلی صدر منتخب ہوئیں۔آپ کی پیدائش ہمیشہ بڑی جانفشانی اور خلوص سے بجھائیں۔آپ کی اولاد میں سے ضلع سانگھڑ کے ایک گاؤں میں ہوئی۔آپ صغرستی ہی میں والد صاحب تین بچے بالکل معدود تھے جو آپ کی پوری اور ہمہ وقتی توجہ کے محتاج کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئیں۔اور آپ کے چچا حضرت حافظہ روشن علی تھے۔اس کے باوجود آپ جماعتی کاموں کے لئے ہمیشہ مستعد رہتیں۔صاحب مرحوم ان کو اپنے ساتھ قادیان دارالامان لے آئے اور یوں آپ کافی شورصہ تک صدارت کے فرائض انجام دینے کے بعد آپ کی پرورش ایک خالصتنا دینی اور علمی ماحول میں ہو جائے نے محض اپنے معذور بچوں کی دیکھ بھال کی مجبوری کی وجہ سے اس قادیان چونکہ جماعت کا مرکز تھا لہذا یہاں مختلف علاقوں سے عہدہ سے سبکدوشی اختیار کی۔لوگ دینی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔حافظ روشن علی صاحب کے قیام پاکستان کے وقت مختلف علاقوں سے لوگ ہجرت گھر بھی دینی درس و تدریس کا سلسلہ قائم رہتا تھا۔اور بہت سے شاگرد کر کے آرہے تھے آپ نے اپنے شوہر اور والد محترم کے ساتھ مل کران ہمہ وقت موجود رہتے تھے۔محترمہ موصوفہ بھی یہ دہ میں رہ کر اس روحانی کی آبادکاری، رہائش اور ملازمت کے لئے بہت کوششیں کیں۔چشمہ سے فیضیاب ہوتی رہیں۔یوں بھی حافظ صاحب کا گھر حضرت محترمہ امتہ التصير مصباحیہ جماعتی فرائض کے علاوہ خاندانی امور بانی سلسلہ کے گھر کے بالکل قریب تھا۔اس لئے کافی آنا جانا تھا۔چنا نچہ کی انجام دہی میں بھی کسی سے پیچھے نہ تھیں۔پور سے خاندان میں نہایت وہاں کا ماحول بھی آپ پر اثر اندانہ ہوا۔آپ ہر قسم کا جماعتی مسئلہ بڑی ہر دلعزیزہ تھیں، ہر چھوٹا بیٹا اپنا مسئلہ اور دکھ دردان کے سامنے پیش خوش اسلوبی سے حل فرمالیتیں۔در خمین کلام محمود - مدیر عدن کے بیشتر کرتا۔سر بیاد کی مدد ہمیشہ اس یہ جنگ میں کرتیں اور خاندان کے نسبتاً کم مایہ افراد کی اس طرح خیال رکھیں کہ کسی کو کانوں کان خیر بھی نہ ہوتی۔اکتوبر میں دماغ کی شریان پھٹ جانے کی وجہ اشعار آپ کو انہ بر تھے۔آپ کی بچھی محترمہ استانی مریم صاحبہ علاقہ کی عورتوں اور بچوں کو قرآنی تعلیم دیتی تھیں۔چنانچہ آپ نے مسن سن کر ہی بہت سا قرآن سے یہ پیاری ہستی اپنے خالق کے حضور حاضر ہوگئی ہو یہ ہونے کے سیدب ربوہ میں مدفون ہیں۔آپ نے اپنے پیچھے دیئے اور کہ بیٹیاں چھوڑیں جن میں سے شریف حفظ کرلیا۔آپ کی شادی ۱۹۲۹ میں قادیان میں ہوئی اور حضرت اماں جان نے ازراہ شفقت اپنی دعاؤں سے خود انہیں رخصت کیا۔اکثر جماعتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔بیاہ کہ آپ ۱۹ میں ہی سندھ آگئیں۔جہاں مختلف شہروں کے قیام اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اپنے جوا بہ رحمت میں جگہ کے بعد مستقل طور پر کراچی آکر آباد ہوگئیں۔اس وقت تک کراچی میں عطا فرمائے لہجہ کراچی کا جو پودا انہوں نے لگا یا تھا وہ اب تناور درخت 1۔4