المحراب — Page 74
الثالث (نور اللہ مرقدہ ) لاہور میں صد له لجند ہ ہیں بستیده محمودہ بیگم صاحبہ مسعود احمد خان صاحب مرحوم اپنے اپنے وقت میں سلسلہ کی خدمات بجا لاتے صاحبزادہ ڈاکٹر منور احمد صاحب، عرصہ درانه تک لجنه اما بد الله مرکز به بیلیں رہے۔آپ کے پوتے نواب منصور احمد خان صاحب واقف زندگی ہیں۔خدمات سر انجام دیتی رہیں، آپ کی تیسری صاحبزادی سیدہ آصفہ بیگم مغربی جرمنی اور نائیجریا میں اہم خدمات انجام دیتے رہے اور اس وقت صاحبزادہ کرنل مبشر احمد ہیں۔وکیل التبستر کے عہدہ پر فائز ہیں۔خدا تعالی کی راہ میں وقف ہونے والوں کی آپ کے صاحبزادے نواب محمد احمد نمان صاحب مرحوم - تواب نسلیں بھی برکت پاتی ہیں۔صاحبزادی سیدہ محمودہ بیگم صاحبه سید صاحبه آپ حضرت خلیفتہ اینچ الثانی اللہ آپ سے راضی ہو ، کی حرم اول کے لئے چندہ دیں تو آپ نے ادویہ بناکر فروخت کیں اور حاصل ہونے تھیں۔آپ محترم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب لاہور ثم قادیان کی صاحبزادی والی آمدنی سے چندہ ادا فرمایا۔تھیں۔اکتوبر 19 ء میں حضرت کے موعود (آپ پر سلامتی ہو ) کی بابرکت زندگی آپ نہایت محبت کرنے والی اور ملنسار ہستی تھیں۔جماعت کی میں آپ کی بہو بن کہ دارا میچ میں تشریف لائیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو خواتین آپ سے ملاقات کر کے بہت سکون پاتی تھیں۔خدا تعالے نے آپ کو حضرت کیا موعود در آپ پر سلامتی ہو ) کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع اولاد بھی ایسی عطا فرمائی جن کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہے۔آپ کی عطا فرمایا۔آپ نے تربیت کو جذب کیا اور کمال محبت و فدائیت سے نیک صحبت اچھی تربیت اور دعاؤں کا ثمرہ ہے کہ خدا تعالے نے آپ کے خدمت کا موقع پایا۔جماعت کا ہر کام بڑے ذوق و شوق سے کر نہیں۔اخبار بڑے صاحبزادے حضرت میاں ناصر احمد صاحب کو امامت کی ضلعت سے و الفضل" کے اجراء کے لئے آپ نے اپنا اور اپنی بچی کا نہ یور دے کر حضرت نواندا۔آپ کی صاحبزادی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزاده مزدا منصور احمد خلیفتہ آنے کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی سعادت پائی۔جس سے سالہا سال صاحب بہت چھوٹی عمر میں لجنہ اماء اللہ کی خدمت میں مصروف ہوگئیں۔اور اب تیک تعدا تعالیٰ کے فضل سے بجنہ اماء اللہ ہ بوہ کی صد یہ ہیں۔سے جماعت مستفیض ہو رہی ہے۔لجنہ کی تشکیل کے بعد اتفاق رائے سے حضرت سیدہ اماں جان صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد نے خود آپ کو کرسی صدارت پہ بٹھایا۔اس طرح سے آپ لجنہ اماء اللہ کی صاحب، صاحبزادہ انور احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب صاجزادہ پہلی صدر نامزد ہوئیں۔اور خدا تعالیٰ کے فضل وکریم سے ۳۶ سال کا لمبا مرزا رفیق احمد صاحب سب دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔آپ کی چھوٹی معرصہ صدر رہیں۔ابتداء میں نظم ونسق کے اصول واضح کر دیں۔بچیوں کو قرآن کریم صاحبزادی محترمه سیده امتہ العربیہ بیگم اہلیہ صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب عرشیانه پڑھائیں اُن سے نماز سنتیں اور ان کی تعلیم و تربیت کرتیں۔جو بھی حضرت تک لاہور میں بحثیت صدر لجنہ اماء اللہ کی خدمات انجام دیتی نہ ہیں اور خلیفہ ایک اللہ آپ پر راضی ہوں محکم صادر فرماتے اس پر پہلے خود عمل کرتیں آپ کی نواسی صاحبزادی امتہ القدوس صاحبہ لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی نائب اور پھر لجنہ اماء اللہ کی میرات کو عمل کرنے کی تلقین فرمائیں۔آپ اپنا پورا صدر کے عہدہ پر فائمہ ہیں اور بہت اعلی پایہ کی شاعرہ ہیں۔جیب خروج چندہ میں دے دیتیں۔آپ ابتدائی موصیات میں سے تھیں۔انیس سالہ تحریک بدید کا دور ختم ہوا تو آپ کا چندہ مبلغ ۰۰-۲۷۳۲ روپیہ خدا تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی نسل کو ہمیشہ ہمیشہ تھا۔ریہ بہت سستے نہ مانہ کی بات ہے جبکہ روپیہ کی قیمت بہت زیاد تھی۔دین کی توفیق بخشتا ر ہے۔آمین ثم آمین۔حضور نے حکم دیا کہ عورت میں اپنے ہاتھ کی کمائی سے اشاعت دین آپ نے اس جولائی 190 ء میں بمقام مری وفات پائی۔دعا ہے