المحراب — Page 73
سیدہ اماں جان نصرت جہاں بیگم نے سر میں لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کے ساتھ جو بیجا عہد وفا باندھا تھا اس کو پورے خلوص اور کمال حلاوت کے ساتھ نبھایا۔شب و روز لجنہ اماء اللہ کی ترقی و بہبود میں گزارتے ہوئے ۱۲۰ اپریل ۱۹۵۷ء کو ہم سے رخصت ہو کہ مالک حقیقی کے حضور حاضر ہوگئیں۔صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب حضرت صاحبزادی نواب مباره که بیگم صاحبہ حضرت صاحبزادی نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ - رندا تعالے لجنہ اماءاللہ کی ہر ممبر کے لئے جب تک سورج چاند باقی آپ سب سے راضی ہو، سب نے ہی اپنی مثالی ماں کی طرح اپنے اپنے ہ جنگ میں دین کی بے مثال خدمات سر انجام دہی ہیں اور اب ان کی انگلی ہیں آپ کی ہستی احمدی خواتین کے لئے روشنی کا مینار شایت ہوگی۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنے وعدے کے مطابق ایک بہت بڑی نسلیں بھی نمایاں خدمات بجا لالہ ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سعادت کو تاقیامت آپ کی مبارک نسل میں جاری و ساری رکھے۔آمین۔اور مبارک نسل کی ماں بھی بنا دیا۔الحمد للہ۔آپ کے صاحبزادگان میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی P صاحبزادی بیده نواب مبارکه بیگم صاحبہ مالی قربانیوں میں بھی آپ پیش پیش رہتیں۔خدا تعالیٰ کی راہ میں آپ حضرت مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہو) کی بہت سی بشارتوں کے تحت آرمانی ( ۲۷ رمضان المبارک کو پیدا ہوئیں۔زیور۔جائیدادا در نقد رقوم جو کچھ ممکن ہو تا خرچ کرنا سعادت سمجھتیں، آپ آپ کی شادی مسیح پاک کے ایک مخلص رفیق نواب محمد علی خان صاحب کے نز دیک دین کی خاطر نہ ندگی وقف کرنے کی بہت اہمیت تھی اگر کوئی آف مالیر کوٹلہ سے ہوئی۔ابتداء میں آپ کا قیام زیادہ تر مالیر کوٹہ میں رہا خانوں بتاتی کہ میں نے اپنے بیٹے کی زندگی وقف کی ہے تو آپ بہت خوشی مگر جب بھی قادیان تشریف لائیں۔اجلاسوں میں ضرورہ شامل ہوئیں اور محسوس کرتیں اور باقی حاضر بہنوں سے فرمائیں کہ تم بھی اپنی اولاد کو دین کی خدمت لجنہ کی بہبود کے لئے مفید مشوروں سے نوازا کرتیں۔بعد میں سیدہ موصوفہ کے لئے وقف کرو خواہ اکلوتا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔مستقل طور پر قادریان دارالامان تشریف لے آئیں اور خدمات در ینید دین کی سر بلندی کا اتنا احساس تھا کہ جس وقت آپ کے محبوب کے لئے وقف ہو گئیں۔آپ بہت صائب الرائے تھیں۔حضرت بھائی حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی وفات کا وقت قریب تھا آپ نے سیده امتد الحی صاحبہ جو کہ لجنہ اماء اللہ کی پہلی سیکر یٹری تھیں آپ سے شورے اور رائے لیا کرتی تھیں، تقسیم ملک کے بعد 1990ء سے 19 اپنی اولادہ کوٹری کی تلقین کی۔اس موقع پر ایک پیغام جماعت کے نام تحریر فرمایا جو بیوت الصلوۃ میں پڑھ کر سنایا گیا۔اس کا خلاصہ یہ تھا کہ احباب ینک لا ہور کی لجنہ اماء اللہ کی صدر نہ ہیں۔آپ کی صدارت کے زمانہ میں جماعت بہت دعا کریں خدا تعالے سے دعاؤں کے ذریعہ مدد چا ہیں۔عبادت کا ذوق فطرت میں شامل تھا چار سال کی ھر سے تہجد پڑھنی لاہور کے حلقہ جات کی تنظیم ہوئی۔جلسہ سالانہ سالانہ اجتماع جامعہ نصرت اور نصرت گرلز ہائی شروع کی۔آپ کی تربیت کے انداز میں نرمی تھی اپنی گفتگو اور تقاریر اسکول کی تقریبات میں ذکر حبیب اور دوسرے موضوعات پر زریں خطابات میں تربیتی امور کے مشعل راہ گر بیان فرمائیں ایک مقدس ماں کی طرح سے نوازا کر ہیں۔لاہور کے شعبہ خدمت خلق کے لئے آپ نے بہت ہی سکون و قرار دینے والی یہ ہستی سرمئی ۱۹۷۷ء کو ہمیں داغ مفارقت اہم اور مفید مشورے دیئے۔آپ ادبی ذوق کی مالک تھیں۔آپ نے دے گئی اُن کی دُعائیں ہمارے ساتھ ہیں۔فضل خدا کا ما یہ تم پر رہے ہمیشہ ہر دن چڑھے مبارک ہر شب بخیر گزارے اپنی اس استعداد کو بھی جماعت کی خدمت کے لئے وقف رکھا، آپ کی نظم و نثر دونوں آپ کے تجر علمی و دینی پر دال ہیں۔آپ کی تحریر است خواتین کے حساس اندازہ فکر کی عکاس ہیں۔آپ کی صاحبزادیوں میں سید منصورہ بیگم صاحبہ حرم خلیفتہ ایج