المحراب — Page 64
قادریان آئیں۔کمرے میں ایک کھری چارپائی پڑی تھی جس کی پائنتی پر ایک کیلا یا تخلہ اس پڑھی ہماری جو پڑیں تو صبح ہوگئی۔میں استقلال سے آپ کی ہمدم و رفیق رہیں۔حضرت کے ہر دعوی اور ہر بات پر غیر متر منزل ایمان لائیں سخت بیماریوں 11 بر اضطراب کے وقتوں میں جیسا اور یہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہان کا بستر عروسی تھا اور سران کے گھر اعتماد انہیں حضرت میں موجود کی دعا یہ تھا کسی چیز پر ہ تھا وہ ہر بات میں میں پہلی رات تھی۔مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہ رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود کو صادق و مصدوق مانتی تھیں۔آپ کا نمایاں ترین دصف اے کھری چارپائی پر سونے والی پہلے دن کی کو بہن ! دیکھو تو سہی! دو جہاں کی عبادت میں شغف تھا۔نما نہ تہجد اور نماز ضعفی کی پابندی کے ساتھ کثرت نعمتیں ہونگی اور تو ہوگی بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے قدموں سے لگے ہوں گے انشاء اللہ سے نوافل ادا فرمائیں جماعت اور دین حق کی سر بلندی کے لئے سہ نہ و گداز سے دعائیں کرتیں۔اواخر عمر میں آپ نے فرمایا " اب اُمن نہور کی دعا کرزوری کے سبب سے مجھ سے نہیں ہو سکتی جس میں میری طاقت بہت خریج ہوتی تھی کہ نمازنہ آپ بے حد خشوع در خضوع سے ادا فرماتی تھیں اور اس کمزوری کے عالم میں اللہ تعالے نے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) میں آپ کے سجدوں کی طوالت دیکھ کر بعض وقت اپنی حالت پر سخت افسوس کو یہ جانفزا بشارت دی کہ تیرا گھر برکت سے بھر دوں گا اور اپنی نعمتیں تجھے اور شرم معلوم ہوتی ہے۔پر پوری کروں گا۔میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت پر برکت اگلی صبح منصور نے ایک خادمہ کو بلوایا اور گھر میں سب آرام کا بند و بست کر دیا۔دوں گا اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی۔اور تیری دعوت کو روایت حضرت نواب میاد که بیگم صاحبه ) دنیا کے کناروں تک پہنچائوں گا۔آپ نے اپنی ساری اولاد کی نہایت اعلی در جنگ میں تربیت فرمائی۔حضرت نواب عمار کہ بیگم فرماتی ہیں۔اصول تربیت میں میکن نے اس چنانچہ اس وعدہ کے مطابق حضرت سید ہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ تحریک بہت مطالعہ خاص و عام لوگوں کا کر کے بھی حضرت والدہ صاحبہ سے کے ذریعہ سے ایک مبارک نسل کا آغاز ہوا اور آپ کے بطن مبارک۔بہتر کسی کو نہیں پایا۔آپ نے دنیوی تعلیم نہیں پائی ( بحجر معمولی اردو خواندگی ) پانچ صاجزادے اور پانچ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔حضرت کیا موعد در آپ مگر جو آپ کے اصول اخلاق و تربیت کے ہیں ان کو دیکھے کہ یہی سمجھا کہ خاص خدا پر ساہتی ہو، حضرت بیگم صاحبہ کو شعائر اللہ میں سے سمجھ کران کی بڑی خاطر داری کے فضل اور خدا کے سیج کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سب کرتے پسند نا پسند کا خیال رکھتے۔تحائف دیتے۔آپ فرماتے ہیں، چونکہ خدا تعالئے کہاں سے سیکھا۔کا وعدہ ہے کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت دین حق نافل کی ڈائے گا بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دنیا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہو گا۔یہ آپ کا بیڑا اصول تربیت ہے۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان در خواجہ میر در قوم کی لڑکی میرے نکاح میں جھوٹ سے نفرت اور غیرت و غنا آپ کا اول سبق ہوتا تھا ہم لوگوں لائے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان لویدوں کو جن کی میرے ہاتھ سے سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی ہیں کہ بچے میں یہ عادت ڈالو کہ یہ کہنا مان ہے پھر تخم ریزی ہوئی ہے۔دنیا میں پھیلائے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔میں وقت بھی روکا جائے گا سادات کی دادی کا نام شہر یا تو تھا۔اسی طرح میری بیوی جو آئندہ خاندانوں کی باز آجائے گا۔اور اصلاح ہو جائے گی۔فرمائیں کہ اگر ایک بار تم سے کہنا مانتے ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی کی پختہ عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید ہے - طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہاں کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ اللہ تعالے کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہم والدین کی عدم موجودگی۔۔۔۔۔۔میں بھی اُن کی نشاہ کے یہی آپ نے ہم لوگوں کو سکھا رکھا تھا اور کبھی ہمارے وہم وگمان میں خلاف کر سکتے ہیں۔کی پیشگوئی منفی ہوتی ہے۔(تریاق القلوب نمبر ۶۴۷۶۵) حضرت اماں جان ۱۸ سال کی عمر میں - - - - - - قادیان حضرت اماں جان ہمیشہ فرماتی تھیں کہ میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے آئیں۔انہی ایام میں حضرت مسیح موخو د ر آپ پر سلامتی ہو) کو ماموریت کے اور یہی اقتباہ تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچاتا تھا۔بلکہ زیادہ متنفر کرتا تھا مجھے آپ کا تھی کر نا بھی یاد نہیں۔پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا۔ہم بہ نسبت الہام ہوئے تھے۔اس طرح تمام ندمانه ماموریت کے نشیب و خرانہ اور سرد و گرم ۷۲