المحراب

by Other Authors

Page 63 of 167

المحراب — Page 63

حضرت اماں جان محترمه طاهری بیگم شرف ناصر صاحب چن لیا تو نے مجھے اپنے مستیا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے مرے جاناں تیرا دنیا میں عالمگیر روحانی نظام کے قیام اور امام آخر الزماں کے لائے جیب حضرت میر صاحب کا یہ خط پہنچا تو حضور نے خدا مداد ہوئے انو یہ آسمانی کو جہاں بھر میں پھیلانے کے لئے یہ تقدیر خداوندی تھی فراست سے درخواست دعا کو خدائی اشارہ پاکر انہیں جواب دیا کہ ہندوستان کے صوفی مرتاض اور ولی کامل خواهید محمد نا صرفا (۲۰۱۲۹۳ ۱۵) کہ تعلق میرا اپنی پہلی بیوی سے عملاً منقطع ہے اور کہیں دوسرا نکاح کرنا چاہتا کی نسل سے ایک پاک خاتون مہدی موعود کے مقدر و حجیت میں آئے گیا۔آپ ہوں اور مجھے اللہ تعالے نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا کہ تمہارا معمرہ خاندان ہے نے ایک مکاشفہ میں دیکھا تھا کہ درج جس نے فرمایا۔ایسا ہی تم کو سادات کے معززہ خاندان میں سے نہ دیجہ عطا کروں گا۔رو نانا جان نے مجھے خاص اس لئے تیرے پاس بھیجا تھا کہ ہمیں تجھے حضرت میر صاحب کمر کے قضاوت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود معرفت اور ولایت سے مالا مال کردوں یہ ایک نعمت تھی جو کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ ہے اور ان کی بیٹی کی عمر سترہ اٹھارہ سال گہرے خانوادہ نبوت نے میرے واسطے محفوظ رکھی تھی اس کی ابتدا تجھے فکر میں پڑ گئے اور کچھ تامل کیا۔بایں ہمہ خدا نے یہ تصرف کیا کہ حضرت کی نیکی پر ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلاة والسلام پر ہو گا اور نیک مزاجی کے سبب آپ نے دل میں یہ پختہ فیصلہ کر لیا کہ اسی نیک رمیخانه درد ص۳) مرد سے اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کروں گا۔چنانچہ آپ نے حضرت نانی اماں سے سو جب اس موعود نعمت کے عطا ہونے کا وقت قریب آیا تو مشورہ کے بعد رضا مندی ظاہر کر دی۔خالہ قومی اے کو خواجہ میر درد صاحب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہیں) کو بار بار اطلاع دی کہ کی مسجد میں عصر و مغرب کے درمیان مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی ہم تیرے آباؤ اجداد کے سلسلے کو منقطع کمر کے تجھ سے ایک نئی نسل اور نئے نے گیارہ صد روپیہ حق مہر پر نکاح پڑھا یہ تقریب اسلامی تمدن و معاشرت خاندان کی ابتدا کرنے والے ہیں نیز آپ کو قبل ان وقت یہ بھی بتا دیا گیا کہ آپ کی روشنی میں نہایت سادہ اور کچھ وقانہ طریق پر انجام دی گئی۔آپ کوئی زیور کی یہ دوسری شادی دلی کے ایک مشہور سادات خاندان میں مقدر ہے۔کپڑا ساتھ لے کر نہیں گئے۔حضرت مسیح موعود در آپ پر سلامتی ہو ) کی اس دوسری شادی کا خدائی صرف اڑھائی سو کی رقم حضرت میر صاحب کے حوالہ کردی کہ جو نکاح کے بعد خصمانہ کی تقریب عمل میں آئی۔قادیان میں دلہن سامان اس طرح ہوا۔کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب اللہ سے حضرت چاہیں بنوالیں۔مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے ارادتمندوں میں شامل اور آپ کی خدا نما شخصیت کے مداح تھے۔ایک دفعہ جذبات عقیدت میں چند امور کے لئے کے لئے زبان، طرفہ معاشرت اور ماحول بالکل نئے تھے پھر کجا دتی جیا (آپ پر سلامتی ہو) کی خدمت میں دعا کی غرض سے بارونتا شاندار وسیع اور تاریخی شہر اور کجا دنیا کی آبادی سے دور ایک ایک خط لکھا جس میں ایک امر یہ بھی تھا کہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک گنام سا گاؤں۔اور صالح داماد عطا فرمائے۔حضرت نواب میانہ کہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ رات کے وقت 21