المحراب

by Other Authors

Page 126 of 167

المحراب — Page 126

عبد و معبود میں پھر ہونے لگے راز و نیاز ایسا لگتا ہے کہ موسیٰ سرطہ یہ آئے ہیں حمد باندی میں منگنی پیکر نور آئے ہیں کے منافی قرار دیا بحضور نے فرمایا کہ ہم وہ عمل کر تے ہیں جس کی سندہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ملتی ہو۔جس کی سند نہ ہو اس پر عمل کرنا کوئی احترام نہیں۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے خواتین کی محفل ہو اور جنوں کے متعلق سوال نہ ہو ایک ایسے استفسار پر حضور پر نور نے فرمایا کہ جن کا لفظ انسانوں پر بھی استعمال ہوا ہے اور دوسری مخلوق پر نجی جیسے بالوں سے استخا نہ کرو یہ جنوں کی خوراس ہے۔ہڈیوں میں بیکٹیریا ہوتا ہے۔جو آنکھ سے نظر نہیں آتا جن کا لفظ عربی میں ایسی مخلوق کے لئے بولا جاتا ہے جو نظر نہیں آئیں مثلاً سانپ ، پہاڑی قومیں وغیرہ ہر اشارے پر فدا کر تے ہیں مال و اولاد نقد جاں لے کے براہیمی طیبونہ آئے ہیں سے سوفان کی لذت کی کشش ہی پیا سے پیتے آئے ہیں پٹے کیف شٹریہ آئے ہیں حضرت سلیمان کے زیر تصرف جن کی بنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے جن پانی میں غوطے ایک دفعہ پھر گہما گہمی اور چہل پہل کا مرکز گیسٹ ہاؤس بن گیا اور لگاتے تھے۔سورہ رحمن میں اے بڑے لوگوں کے معشر اور اے چھوٹے لوگوں کے منتظر انتظامیہ کمیٹی کی نگران محترمہ ڈاکٹر زبیدہ طاہر صاحبہ اپنی مستعد اور چاقی منتشر کہ کر واضح ہو گیا کہ سب انسان ہیں۔سورہ الناس میں بھی ناس در قسموں وہ ہند در کر نہ کے ساتھ میدان میں آگئیں۔آنے والی تھوانین کی روندا نہ فہرست کے بیان کئے ہیں۔بڑے لوگ بھی اور عوامی طاقتیں بھی۔اس طرح بہن کوئی غیر مرئی بنانا، جگہ پر خاموش بٹھانا، پانی کا انتظام، ملاقات کا انتظام غرضیکہ ہر طرح مخلوق نہیں۔کے کام کی تمام تر ذمہ داری نخوش اسلوبی سے سنبھال لینا۔ڈاکٹر صاحبہ کا خصوصی امتیاز تھا۔خواتین کی محفل کا اگلا سوال جادو کی حقیقت کے متعلق تھا۔آپ نے سمجھایا کہ محضرت موسی کے جادو والے واقعہ میں سحر و العينَ النَّاسُ سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۲۴ اگست ۱۹۹۳ء کو شام تا ۵ بجے حضور ایدہ الودود سے تمام میں نہیں تھا لوگوں کی آنکھوں پر تھا پروفیشنل، خواتین اور اُن کی مہمانان گرامی کی ملاقات ہوئی۔جگہ کی قلت کے جسے جدید زبان میں مسمریزم کہتے ہیں۔اس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ باتیں پیش نظر ملے پایا کہ چونکہ پورے ضلع کی خواتین ایک دن جمع نہیں ہو سکتیں اس بھول جاتے تھے یہودیوں نے اس سے فائدہ اٹھا کر کنویں میں کچھ چیزیں ڈالیں اور مشہور کر دیا کہ جادو کا اثر ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو سمجھا دیا۔آپ کچھ صحابہ کو لے کر گئے اور وہ چیز ہیں نکلوا دیں۔لئے دو دن ملاقات ہوگئی۔پہلے دن جماعت کی ذیلی تنظیمات ڈاکٹرز الیوی ایشن، ٹیچرنہ ایسوسی ایشن، احمد یہ گرلز اسٹو ڈنٹس فیڈریشن اور دیگر کا ر کن خواتین آپ حج کیوں نہیں کہ تھے ؟ یہ سوال بہت سی بہنوں کی طرف سے اپنی مہمانوں کے ساتھ تشریف لائیں۔ریحانہ یاسمہ صاحبہ کی سورہ رحمن کے تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا۔اس محفل میں غیرانہ جماعت خواتین کو اولیت تھا آپ نے بنایا کہ حج پہلے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بند ہوا تھا مگر قرآن پاک دی گئی تھی۔مہمان خواتین کو ایسے مواقع میسر نہیں ہوتے جہاں وہ جماعتی سطح پہ سر شاہد ہے کہ قبول ہوا تھا کیونکہ تو اب محمد اتعالیٰ کے ارشاد پر تعمیل میں ہے آداب و حفظ مراتب کا طریق سیکھ سکیں۔پھر کچھ بزعم خود کی کم علم کے بحث برخود اگر وہ حکم دے حج کرو تو تعمیل فرض ہے اگر راستے کا ان مہیا نہ ہو تو خدا کا حکم ہے غلط ملاں سے خوب تعرب بحث کر کے لاجواب کرنے کے موڈ میں آئی ہیں۔انہیں حج فرض نہیں آپ سمجھتے تھے آپ رک گئے۔ہجو زبر دستی روکا جائے رک جائے خبر نہیں ہو تی کہ وہ مہدی دوراں کے عالم بے بدل پوتے اور احیائے دین کیے تعمیل حکم خداوندی فرض ہے۔جو حکومتیں اعتراض نہیں کرتیں وہاں سے بیسیوں احمدی نمائندہ جماعت کے محترم امام سے گفتگو کرنے آئی ہیں۔اس لئے ہم میرات کو حج کرتے ہیں سعودی عرب اُن سے تعرض نہیں کرتا ہماری حکومت منع کرتی ہے اس بعض اوقات ان کا لہجہ نا مانوس لگتا حضور انتہائی تحمیل خندہ پیشانی کے ساتھ لئے حج کی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔سادہ اور سہل اندا نہ میں نظریں منطقی جواب دیتے۔جس سے متاثر ہوئے بغیر چارہ نہ رہتا۔خواتین نے نمازنہ کے بعد ہاتھہ اٹھا کر دعا نہ مانگنے پر اعتراض کیا اور سلاد سوال وجواب کی اس دلچسپ محفل میں ایک خاتون جو سوالات کرنے میں تیزی کا مظاہرہ کہ رہی تھیں اگلے دن تشریف لائیں اور خاص طور پر معذرت کی۔اگلے دن ۲۸ اگست کو بھی خواتین کی ایک محفل میں جس میں غیر ز جماعت کے آخر میں سلام کے موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ سلم کے نام پر کھڑا نہ ہوتے کو احترام بہنیں بھی شامل تھیں حضور نے سوالوں کے جواب دیئے۔اس سوال کے جواب ۱۳۴